خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 812
خطبات ناصر جلد پنجم ۸۱۲ خطبہ جمعہ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۴ء میں بالائے طاق ہے اور اکثر لوگ دہر یہ مذہب کی کسی شاخ کو اپنے ہاتھ میں لئے بیٹھے ہیں اور خدا تعالیٰ کی شناخت بہت کم ہو گئی ہے اسی وجہ سے زمین پر دن بدن گناہ کرنے کی دلیری بڑھتی جاتی ہے کیونکہ یہ بدیہی بات ہے کہ جس چیز کی شناخت نہ ہو نہ اس کا قدر دل میں ہوتا ہے اور نہ اس کی محبت ہوتی ہے اور نہ اس کا خوف ہوتا ہے۔تمام اقسام خوف و محبت اور قدر دانی کے شناخت کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔پس اس سے ظاہر ہے کہ آج کل دنیا میں گناہ کی کثرت بوجہ کی معرفت ہے۔اور سچے مذہب کی نشانیوں میں سے یہ ایک عظیم الشان نشانی ہے کہ خدا تعالیٰ کی معرفت اور اس کی پہچان کے وسائل بہت سے اس میں موجود ہوں تا انسان گناہ سے رُک سکے اور تا وہ خدا تعالیٰ کے حسن و جمال پر اطلاع پاکر کامل محبت اور عشق کا حصہ لیوے، اور تا وہ قطع تعلق کی حالت کو جہنم سے زیادہ سمجھے۔یہ سچی بات ہے کہ گناہ سے بچنا اور خدا تعالیٰ کی محبت میں محو ہو جانا انسان کے لئے ایک عظیم الشان مقصود ہے اور یہی وہ راحت حقیقی ہے جس کو ہم بہشتی زندگی سے تعبیر کر سکتے ہیں۔تمام خواہشیں جو خدا کی رضامندی کے مخالف ہیں دوزخ کی آگ ہیں اور ان خواہشوں کی پیروی میں عمر بسر کرنا ایک جہنمی زندگی ہے مگر اس جگہ سوال یہ ہے کہ اس جہنمی زندگی سے نجات کیونکر حاصل ہو؟ اس کے جواب میں جو علم خدا نے مجھے دیا ہے وہ یہی ہے کہ اس آتش خانہ سے نجات ایسی معرفت الہی پر موقوف ہے جو حقیقی اور کامل ہو۔کیونکہ انسانی جذبات جو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں وہ ایک کامل درجہ کا سیلاب ہے جو ایمان کو تباہ کرنے کے لئے بڑے زور سے بہ رہا ہے۔اور کامل کا تدارک بجز کامل کے غیر ممکن ہے۔پس اسی وجہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے ایک کامل معرفت کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ فضل اور رحمت سے ہم سب کو اس کامل معرفت سے حصہ کاملہ عطا فرمائے۔روزنامه الفضل ربوه یکم فروری ۱۹۷۵ ء صفحه ۲ تا ۴)