خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 811
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۴ء وہاں خوبصورتی نظر آتی ہے یہ ساری چیزیں تو ذیلی ہیں یہ تو ایک ہلکا سا جلوہ ہے خدا تعالیٰ کی صفات کا۔حسن کا اصل منبع اور سر چشمہ تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔دنیا کی چیزیں جو ہماری خدمت میں لگی ہوئی ہیں اور کسی نہ کسی رنگ میں دنیا کی ساری مخلوقات انسان کی خدمت کر رہی ہیں۔ان کا ہم پر احسان نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ اُس نے اپنے فضل سے ایک طرف ان کو خادم بنایا۔دوسری طرف ہمیں خدمت لینے کی طاقتیں عطا کیں اور تیسری طرف اس نے ہمیں یہ توفیق دی کہ ہم اپنی طاقتوں کا صحیح استعمال کر کے خدا تعالی کی پیدا کردہ مخلوقات سے خدمت لے سکیں۔پس نجات کا مدار ہے اللہ تعالیٰ کی معرفت پر۔اس کے بغیر نجات حاصل ہی نہیں ہوسکتی۔خدا تعالیٰ کی معرفت کے سوانجات کے حصول کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔یہی ایک ذریعہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی محبت اور خشیت پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق پیدا ہوتا ہے۔اسلامی شریعت کی یہی غرض ہے۔یوں تو ہر مذہب کی یہی غرض ہوتی رہی ہے لیکن جیسا کہ میں ابھی بتا چکا ہوں اسلام سے پہلے کے مذاہب اپنے وقت اور زمانہ میں ایک خاص حلقہ میں اور انسانوں کی محدود بستیوں میں اس مقصد کو پورا کرتے رہے کیونکہ گذشتہ انبیاء علیہم السلام زمانی اور مکانی لحاظ سے محدود ذمہ داریاں لے کر آتے تھے۔انسان نے بہت سی تدریجی منازل طے کر کے اپنی استعدادوں کو جلا دینی تھی۔پس انسانوں کی استعدادوں کے مطابق نجات کے سامان پیدا کئے گئے لیکن محمدی شریعت کے نزول کے بعد دنیا نے رَحمَتِي وَسِعَتْ كُلّ شَيْءٍ کا نظارہ دیکھا۔شریعت محمدیہ کے فیضان کا دائرہ قیامت تک وسیع ہو گیا۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ بنایا۔آپ سے پہلے کسی اور نبی کا یہ کام نہیں تھا۔اس سلسلہ میں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک چھوٹا سا اقتباس پڑھ کر سناتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں :۔مذہب کی اصلی غرض اُس بچے خدا کا پہچاننا ہے جس نے اس تمام عالم کو پیدا کیا ہے اور اس کی محبت میں اس مقام تک پہنچنا ہے جو غیر کی محبت کو جلا دیتا ہے اور اس کی مخلوق سے ہمدردی کرنا ہے اور حقیقی پاکیزگی کا جامہ پہننا ہے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ یہ غرض اس زمانہ