خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 810
خطبات ناصر جلد پنجم ۸۱۰ خطبہ جمعہ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۴ء ہو، بھوک لگی ہوئی ہو انسان کی طاقتیں فعّال ہونے کی وجہ سے مزید طاقتوں کا حصول چاہتی ہوں اور وہ شوق سے کھانا کھا رہا ہو تو یہ بھی ایک لذت ہے لیکن وہ لذت جو خدا تعالیٰ کے پیار سے انسان حاصل کرتا ہے اس کے مقابلے میں دنیوی کھانے پینے کی لذت کوئی چیز ہی نہیں۔غرض نجات اس خوشحالی کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت کے بعد خشیت اللہ اور محبت الہی کے پیدا ہونے کے نتیجہ میں اور خدا تعالیٰ سے ذاتی تعلق کی بنا ( پر ) انسان کو حاصل ہوتی ہے اسی خوشحالی اور رضائے الہی کو ہم جنت کہتے ہیں۔قرآن کریم نے بتایا ہے کہ انسان کے لئے اس دنیا میں بھی جنت کے سامان پیدا کئے گئے ہیں اور مرنے کے بعد یعنی اس دنیا سے دوسری دنیا کی طرف منتقل ہو جانے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی رضا کی جنتوں میں انہیں داخل کرے گا۔یہی حقیقی نجات ہے۔اب یہ بات کہ خدا تعالیٰ کا پیارا انسان کو حاصل ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں ہر قسم کی خوشحالی کے سامان پیدا ہو جائیں۔یہ کسی اور کے مجاہدہ اور قربانی کے ساتھ تعلق نہیں رکھتی۔یہ خود انسان کے اپنے عمل کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔کہ وہ خدا کی راہ میں انتہائی کوشش کر کے۔خدا کے سوا کسی اور کی طرف ذرہ بھر میلان نہ ہو۔دل میں غیر اللہ کے ہر نقش اور ہر دُوئی کو مٹا کر خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک سچا اور زندہ تعلق قائم کرے۔خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق کے نتیجہ میں جو خوشحالی پیدا ہوتی ہے، وہ اس دنیا میں بھی جنت کے سامان پیدا کر دیتی ہے اور اُخروی جنتوں کا بھی انسان کو وارث بنادیتی ہے۔یہ ہے وہ حقیقی نجات اور اس کا حسین تصور جو اسلام نے پیش کیا ہے اور یہی وہ نجات ہے جس کے حصول کے ذرائع اسلام نے بیان کئے ہیں اور یہی وہ نجات ہے جس کی حقانیت کی خدا تعالیٰ کے کروڑوں محبوب بندوں نے پچھلے چودہ سو سال میں گواہی دی۔اللہ تعالیٰ کے پیار کو انہوں نے حاصل کیا۔اللہ تعالیٰ کی اس شیریں آواز کو انہوں نے سنا جس کے مقابلہ میں دنیا کی ہر آواز بھری معلوم ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے حسن کے جلوے دیکھے تو انسان کو معلوم ہوا کہ حسن کا اصل سرچشمہ تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔اگر ہمیں اور کہیں خوبصورتی نظر آتی ہے۔مثلاً گلاب کے پھول میں یا مثلاً برف سے ڈھکی ہوئی پہاڑیوں کی چوٹیوں کی طرف ہم دیکھتے ہیں تو