خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 787
خطبات ناصر جلد پنجم 2A2 خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۷۴ء ہو سکتے ہو، جب دعائیں کرو، ٹھیک ہے عقل بھی ایک عطاء الہی ہے اور اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے لیکن عقل اسی وقت صحیح کام کر سکتی ہے جب اُسے خدا تعالیٰ کی ہدایت اور تعلیم اور وحی کی روشنی حاصل ہو۔الہی نور کے بغیر عقل کو وہ روشنی نہیں ملتی جو عقل کو صحیح راستوں پر چلا سکے اور کامیابیوں تک عقل مندوں کو لے جاسکے۔اس سے ایک تو ہمیں یہ پتہ لگا کہ اپنے حقوق لینے ہوں تو بھی دوسروں کے لئے سکھ پیدا کرنے ہوں گے اور دُکھوں سے بچا نا ہو تو بھی دعاؤں کی ضرورت ہے نہ کہ کسی اور چیز کی کیونکہ جب تک عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اور جب تک اجتماعی اور انفرادی دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو انسان جذب نہیں کرتا، اُس وقت تک وہ حق کے دائرہ کے اندر نہیں رہ سکتا۔نہ اپنے حقوق کے حصول کے لئے اس کی کوششیں جائز ہوں گی نہ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کے لئے اس کے اندر ایک جذبہ اور جوش پیدا ہو گا۔دوسری بات ہمیں یہ بتائی گئی ہے کہ ہر وہ شخص جو اپنے حقوق کے دائرہ میں نہیں رہتا اور زیادتی کرتا ہے اور تجاوز کرتا ہے اور حق تلفی کرتا ہے اور دشمنی اور بغض سے دوسرے کو ایذا پہنچاتا ہے اور اپنے لئے وہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کا حق نہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو کھو بیٹھتا ہے۔اس ضمن میں ہمیں دنیا میں دو قسم کے لوگ نظر آتے ہیں۔ایک وہ جو عادتاً دوسروں کو سکھ پہنچانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں اور ایک وہ ہیں جو اپنی بدقسمتی سے دوسروں کو دُکھ پہنچانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو کم و بیش دنیا کے ہر خطہ میں نظر آتی ہے۔اس وقت دنیاوی لحاظ سے جو ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے جو ترقی کی ہے اُس کا راز بھی یہی ہے کہ انہوں نے اس حقیقت کو پہچانا کہ دوسروں کو سکھ پہنچانے کے نتیجہ میں اور اُن کے دُکھ دور کرنے کی وجہ سے قومیں ترقی کیا کرتی ہیں۔میں نے کئی ایسے واقعات پڑھے ہیں مثلاً انگریز قوم کو ایک وقت میں برطانوی سلطنت پر بڑا ناز تھا۔دنیا میں انگریزوں کی طاقت پھیلی ہوئی تھی۔دنیا کے ایک بڑے علاقے کو انہوں نے