خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page viii of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page viii

VI انعامات کو بھی حاصل نہیں کر سکتے جو صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رب کریم سے حاصل کئے تھے لیکن دنیا کے کسی دماغ میں اگر یہ بات آئے کہ ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اللہ تعالیٰ کی غلبہ اسلام کی اس تدبیر اور اللہ تعالیٰ کے غلبہ اسلام کے اس منصو بہ کونا کام بنا سکتی ہیں جس غرض کے لئے کہ جماعت احمد یہ قائم کی گئی تھی تو ہمارے نزدیک وہ روحانیت سے دور ہونے کی وجہ سے نا سمجھی کے خیالات رکھنے والا ہے۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ کا یہ منصوبہ ناکام ہو جائے۔۲۱-۸ جون ۱۹۷۴ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے حکومت پاکستان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے متعلق یہ اعلان کیا کہ ہم احمدیہ فرقہ کے مسلمان ہیں۔ایک جگہ آپ نے انہی الفاظ میں یہ جملہ بولا ہے احمدی فرقہ کے مسلمان۔ساری دنیا کے احمدی کہیں گے کہ ہم احمدی فرقہ کے مسلمان ہیں اور دنیا کی کوئی حکومت یہ حق نہیں رکھتی کہ وہ یہ کہے کہ تم احمدی فرقہ کے مسلمان نہیں ہو۔مذہب دل کا معاملہ ہے۔خدا تعالیٰ اپنے فعل سے ثابت کرے گا کہ کون مومن اور کون کا فر ہے۔“ ۹ - ۱۳ رستمبر ۱۹۷۴ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے قومی اسمبلی کی قرارداد کا ذکر کرتے ہوئے جن امور کا ذکر فرمایا ان کا خلاصہ حضور کے اپنے الفاظ میں یہ ہے:۔۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی نے مذہب کے متعلق ایک قرارداد پاس کی ہے۔اس پر دوسوال پیدا ہوتے ہیں۔اوّل یہ کہ اس پر تبصرہ کیا ہے؟ تبصرہ کا ابھی وقت نہیں۔اس کے لئے بڑے غور اور مشورہ کی ضرورت ہے۔دوم یہ کہ جماعت کا رد عمل کیا ہونا چاہیے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم اللہ پر کامل اور زندہ ایمان رکھتے ہیں جیسا که قرآن عظیم نے اس کی ذات اور صفات بیان کی ہیں۔اس لئے ”احمد یہ فرقہ کے مسلمان کا رد عمل کے دو پہلو ہیں۔