خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page ix
VII ا۔رد عمل ایسا ہونا چاہیے کہ اللہ ناراض نہ ہو جائے۔۲۔رد عمل ایسا ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور پیار حاصل ہو اور اللہ کے نزدیک انسان اس کا حقیقی عبد ٹھہرے۔۱۰۔یکم نومبر ۱۹۷۴ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے فرمایا:۔جس دن قومی اسمبلی کے سارے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی بنی اُس دن جب اعلان ہوا کہ اس کمیٹی کا اجلاس In Camera ( یعنی خفیہ ) ہوگا۔اس بات نے کہ اجلاس خفیہ ہو گا مجھے پریشان کیا اور اس اطلاع کے ملنے کے بعد سے لے کر اگلے دن صبح چار بجے تک میں بہت پریشان رہا اور میں نے بڑی دُعائیں کیں۔۔۔۔۔سوره فاتحہ بہت پڑھی اهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ بہت پڑھا۔ان الفاظ میں دُعا بہت کی اور صبح اللہ تعالیٰ نے بڑے پیار سے مجھے یہ کہا وَشِعْ مَكَانَكَ إِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِيْنَ کہ ہمارے مہمانوں کا تم خیال کرو اور اپنے مکانوں میں مہمانوں کی خاطر وسعت پیدا کرو اور جو یہ منصوبے جماعت کے خلاف ہیں ان منصوبوں کے دفاع کے لئے تیرے لئے ہم کافی ہیں تو تسلی ہوئی۔وَشِعُ مَكَانَكَ جو خاص طور پر کہا گیا اس لئے میرا فرض تھا کہ جماعت کو کہوں کہ وسعتیں پیدا کرو۔“ الغرض حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ خطبات جمعہ جماعت احمدیہ کی تاریخ بھی ہیں اور ہر پہلو سے انسانیت کی ضرورت بھی ہیں۔ان میں خدا تعالیٰ کی خاطر ترقیات کے لئے قربانیوں اور کامل اطاعت کی تیاری کے لئے سامان ہیں۔حضور کے دست مبارک سے لکھے ہوئے چند خطبات کے نوٹس بھی بطور تبرک اس جلد میں دیئے جا رہے ہیں۔۱۳ / مارچ ۲۰۰۷ء والسلام سید عبدالحی ناظر اشاعت