خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 57
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۷ خطبہ جمعہ ۲ / مارچ ۱۹۷۳ء کے مخالف ہو۔جو خدا کا ارادہ ہوگا وہی میرا ارادہ ہو گا۔جو خدا تعالی کی خواہش ہوگی وہی میری خواہش ہو گی۔تاہم خدا تعالیٰ کے متعلق ہمارے نوجوان سمجھ لیں کہ یہ الفاظ اُس پر پوری طرح چسپاں نہیں ہوتے کیونکہ وہ ہر پہلو ہر لحاظ سے ایک منفر د واحد اور یگانہ ذات ہے لیکن ہم خود ان کو سمجھنے اور دوسرے کو سمجھانے کے لئے اپنے وہ محاورے اور الفاظ استعمال کرتے ہیں جو آپس میں ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔دوسرے معنی میں بھی اللہ تعالیٰ کا عزم اور اس کی خواہش اور اس کا ارادہ ہے مگر جہاں تک انسان کا تعلق ہے اس کے ماتحت اس کے سائے میں اس کے عکس کے طور پر اس کی تشریح کے طور پر انسان کا ارادہ اور اس کی خواہش ہونی چاہیے۔خدا نے کہا میں نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری صفات کا مظہر بنے۔اس لئے انسان کو یہ چاہیے کہ بنیادی طور پر اُس کی ایک ہی خواہش ہو اس کا ایک ہی ارادہ ہو اور وہ یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنوں گا۔اسلام کے یہ معنے بلى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلّهِ وَهُوَ مُحْسِن کے اندر آتے ہیں۔اعتقادی طور پر اس طرح کہ میری کوئی ایسی خواہش نہ ہوگی میرا کوئی ایسا عزم نہ ہوگا میری کوئی ایسی ہمت نہ ہوگی کوئی ایسا ارادہ نہ ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے خلاف ہو۔جو اس کے عزم اور اس کی ہمت سے متضاد ہوتا ہم انسان اور اللہ تعالیٰ کی ہمت میں بڑا فرق ہے۔اس لئے ظاہر ہے کہ تمہاری اور اس کی ہمت میں بھی بڑا فرق ہے۔ہم بڑی کوشش کرتے ہیں اور بڑی محنت کرتے ہیں اور بڑی تکلیف اُٹھاتے ہیں اور بڑا مجاہدہ کرتے ہیں۔تب اس کے فضل سے نتائج کو پاتے ہیں لیکن وہ تو کسی امر کے متعلق گن کہتا ہے اور وہ وجود میں آجاتا ہے۔یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے لیکن کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ارادے اور عزم اللہ تعالیٰ کے عزم اور ارادہ کے ماتحت ہونے چاہئیں۔انسان کا عزم اور ارادہ تو بہر حال اتنا نہیں ہوتا جتنا خدا کا ہوتا ہے پھر انسان انسان کے عزم و ارادہ میں بھی فرق ہوتا ہے۔اس مضمون میں جانے کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ نے جتنی طاقتیں دی ہیں خواہش اور ارادہ سے استعمال ہونی چاہئیں گویا ان کا استعمال اس رنگ میں ہونا چاہیے کہ تسخیر عالمین کا مقصد پورا ہو جائے اور اس رنگ میں تسخیر عالم ہو کہ سارے عالمین زمین و آسمان