خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 56 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 56

خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۲ / مارچ ۱۹۷۳ء نہیں ہے کیونکہ مادی جسم کے لحاظ سے گدھے کا جسم بھی مٹی کے اجزا سے بنا ہے اور کتے کا بھی بنا، اونٹ اور بیل اور شیر اور ہاتھی اور بے شمار مخلوق دنیا کی چرند پرند اور درندے ہیں ان کے وجود بھی بنے اس لئے جہاں تک انسانی نفس کے مادی وجود کا تعلق ہے۔انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں۔اس واسطے صرف مادی جسم کے لحاظ سے کسی کو ہم انسان نہیں کہہ سکتے۔آخر جانور اور انسان میں کوئی امتیاز پیدا ہونا چاہیے۔جہاں تک احساس کا تعلق ہے ایک درخت میں بھی جس ہے اور ایک انسان میں بھی جس ہے۔ایک درخت ایسا بھی ہے کہ اگر انسان اس کو جرات کر کے ہاتھ لگالے تو اس کے پتے شرما کر سکڑ جاتے ہیں۔درخت میں جس ہے تو سکڑتے ہیں۔ان کو اگر آپ ضرورت سے زیادہ غذا دے دیں تو جس طرح انسان کو نقصان پہنچتا ہے۔اسی طرح اس درخت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔بعض دفعہ انسان زیادہ کھانے سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔میں اس کا عینی شاہد ہوں۔ایک دفعہ غلطی سے ایک درخت کو شام کے وقت میں نے ضرورت سے زیادہ غذا دے دی۔اور صبح جب میں اُٹھا تو وہ مرا ہوا تھا۔تو یہ جس انسان اور درختوں کی زندگی میں برابر ہے۔یہ زندگی حیات کا نام ہے۔اس میں حیوان اور انسان برابر ہیں پس وہ کیا چیز ہے جو فرق پیدا کرتی ہے اور امتیاز پیدا کرتی ہے اور فرقان پیدا کرتی ہے انسان اور دوسری خلق میں وہ یہی انسانی قوت اور استعداد ہی تو ہے۔تمام قوتوں کے حصول کے نتیجہ میں انسان کے لئے تسخیر عالمین کا امکان پیدا ہوا۔اگر انسان کو قو تیں دی جاتیں لیکن اس کے اندر ہمت نہ ہوتی اسے عزم نہ عطا کیا جاتا اس کے دل میں کوئی خواہش نہ پیدا ہوتی۔وہ کوئی بڑا ارادہ نہ رکھتا۔اس کے دل میں کوئی امنگ نہ ہوتی تو ساری قو تیں بریکار تھیں۔اس لئے ایک طرف تسخیر عالمین کے لئے اس کو قو تیں عطا کی گئیں دوسری طرف اس کے دل میں خواہشات اور ہمت اور ارادہ پیدا کیا گیا۔کس کام کے لئے تھا یہ عزم اور خواہش اور ارادہ؟ اس کام کے لئے کہ میں اپنی تمام قوتوں کو انتہائی طور پر استعمال کروں گا اور جب اس نے اپنے روحانی مقام کو پہچانا اور روحانی قوتوں کا اُس نے انداز لگایا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ میں اپنے وجود میں کوئی ایسا ارادہ نہیں رکھوں گا جو اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے تضاد رکھنے والا ہو اور اس