خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 744
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۴۴ خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۷۴ء اس شخص کو ، میرے اس بندے کو یہ سمجھ آگئی کہ اس کی کوششیں بے نتیجہ ہیں جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو۔پس خدا تعالیٰ نے اس علاقہ کو اپنی قدرت کی یہ شان دکھائی کہ اس سارے علاقہ میں بیسیوں بلکہ شاید سینکڑوں قبائل ارد گرد آباد تھے۔ان میں سے ہر قبیلہ میں سے دو چار کے دل میں فرشتے تحریک پیدا کرتے تھے کہ اُن کے پاس چلے جاؤ تو وہ ان کے پاس مسلمان ہو کر آجاتے تھے۔وہ غیر مسلموں کا علاقہ تھا اور پھر انہوں نے وہاں قرآنِ کریم اُن کو پڑھانا شروع کیا اور درس دینا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور اُن کے دماغوں کو کھولا اور قرآن کریم کا علم اُن کو حاصل ہوا۔معلم حقیقی تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے وہ لوگ جو اس غلطی میں مبتلا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم کے نئے اسرار روحانی کسی پر ظاہر نہیں ہو سکتے وہ دراصل اللہ تعالیٰ کے معلم حقیقی ہونے سے انکار کر رہے ہیں معلم حقیقی اُس تعالیٰ کی ذات ہے۔وہ اس بزرگ کو قرآن کریم سکھا رہا تھا اور یہ آگے اُس زمانہ کے حالات کے مطابق جو ابدی اور بنیادی صداقتیں تھیں وہ اُن کو سکھا رہے تھے۔کئی سال تک یہ مدرسہ انہوں نے لگایا اور قرآن کریم پڑھایا اس استاد کی اپنی کوششیں تو نا کام ثابت ہوئیں لیکن جب ان کے شاگرد اپنے اپنے قبیلہ میں گئے تو ہزاروں کی تعداد میں اُن کے قبائل دھڑا دھڑ اسلام میں داخل ہونے شروع ہوئے اور وہ سارا علاقہ مسلمان ہو گیا۔پس ہم کہتے ہیں با اخلاق سے باخدا انسان بنایا۔باخدا کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا اُس سے تعلق ہے۔خدا کا قرب اُسے حاصل ہے وہ خدا کی آواز سنتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کا معلم بنتا ہے۔خدا تعالیٰ اُس کا بادی بنتا ہے۔خدا تعالیٰ اُس کا رہنما بنتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کو غلطیوں اور کبائر سے جو چھپے ہوئے ہیں یا جو صغائر ہیں ( بزرگوں کے لئے وہ بھی کبائر بن جاتے ہیں وہ علیحدہ مسئلہ ہے ) اس لغزش سے اُن کو بچاتا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ نہ جسمانی زندگی نہ روحانی زندگی اللہ کی مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔پس اسلام نے اور قرآن کریم کی ہدایت نے وحشی کو انسان بنایا انسان کو با اخلاق انسان بنایا۔با اخلاق انسان کو با خدا انسان بنایا اور کسی کا یہ سمجھنا کہ قرآن کریم کی تأثیریں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قوائے روحانیہ ایک وقت تک تو کام کر رہے تھے اور اس کے بعد پھر وہ نعوذ باللہ مردہ