خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 55 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 55

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۵ خطبہ جمعہ ۲ / مارچ ۱۹۷۳ء پیش کیا ہے اور یہ اللہ کے حضور اپنے آپ کو سپرد کر دینے کے متعلق ہے زید بکر یا یہ اور وہ یا بہت یا قوم کی طاقت یا سٹیٹ (State) یا کمیونسٹ بعض دفعہ کہہ دیتے ہیں کہ ”عوام ہمارا خدا ہے ان سب کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ کو اسلام نے اس رنگ میں پیش کیا ہے کہ گویا انسان اپنا سب کچھ اس کو سونپ دیتا ہے یہ سونپنا دو قسم کا ہوتا ہے ایک اعتقادا اور ایک عملاً۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ مختصراً یہ مضمون بڑے لطیف پیرا یہ میں بیان فرمایا ہے۔آپ کے نزدیک اعتقاداً سونپ دینے کے معنے یہ ہیں کہ انسان یہ اعتقاد رکھے کہ میرا وجود خدا تعالیٰ کے ارادوں کے ماتحت ارادے رکھنے اور اس کی رضا اور خوشنودی کے حصول کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ایک مسلمان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ انسانی پیدائش کی کیا وجہ ہے۔خدا نے اُسے کیوں پیدا کیا ہے؟ اعتقاداً مسلمان وہ شخص ہے جو یہ اعتقا در کھتا ہے اور یہ یقین رکھتا ہے کہ میرے رب نے مجھے اس لئے پیدا کیا ہے کہ میں آوارہ ارادوں کا مالک نہ بنوں بلکہ اپنے ارادے اور خواہشات کو خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دوں اپنی ہر خواہش کو اُس کے ارادوں کے ماتحت کر دوں۔جو اللہ کا ارادہ ہے وہی ہما را ارادہ ہو جائے۔جو اللہ کی رضا ہے وہی ہماری رضا بن جائے اور عملاً مسلمان ہونا اور اپنے وجود کو اللہ کو سونپ دینے کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جتنی طاقتیں دی ہیں وہ ساری کی ساری نیکی کے کاموں پر خرچ ہوں اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سی طاقتیں دی ہیں۔اتنی طاقتیں دیں کہ اگر وہ اپنی ساری قوتوں کو بحیثیت انسان مجموعی طور پر استعمال کرے تو زمین آسمان کو اپنا خادم بنا سکتا ہے اسی لئے انسان کو نہ صرف جسمانی اور ذہنی اور علمی قوتیں عطا کی گئیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اخلاقی اور روحانی قوتیں بھی بخشیں۔جس طرح خلقِ خدا میں اتنی وسعت ہے کہ اسے ہم غیر محدود کہتے ہیں اسی طرح انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے محدود طاقتیں اور قو تیں عطا کی گئی ہیں۔انسان کہتے ہی اس وجود کو ہیں جو خدا داد طاقتوں اور استعدادوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔اگر آپ سوچیں کہ یہ میرا جسم ہے یہ آپ کا جسم ہے ویسے دراصل انسان صرف جسم کا نام