خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 705
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۰۵ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۷۴ء پیدا ہو جائے تو یہ محبت، محبت ذاتی جو انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے دو نقاضے کرتی ہے۔ایک یہ کہ انسان کوشش کرتا ہے کہ میرا یہ محبوب میری کسی غفلت اور کوتاہی کے نتیجہ میں مجھ سے ناراض نہ ہو جائے اور دوسرے یہ کہ انسان کے دل میں یہ تڑپ پیدا ہوتی ہے کہ میں وہ اعمال بجالاؤں جن کے نتیجہ میں میری یہ محبت یکطرفہ نہ رہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا پیار اور اس کی رضا بھی مجھے حاصل ہو۔میں نے بتایا تھا کہ ۷ ستمبر کو جو بھی ایک مذہبی فیصلہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے کیا اس کا رد عمل احمدی کی طرف سے جس کے دل میں اپنے رب کا پیار ہے ایسا ہو ہی نہیں سکتا جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا خدشہ ہو اور یہ بات ہمیں قرآنِ کریم نے بتائی ہے کہ کن باتوں سے وہ ناراض ہوتا ہے اور کن اعمال کے نتیجہ میں انسان اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت کو حاصل کرتا ہے۔میں نے بتایا تھا کہ وہ کام جن کے متعلق قرآنِ عظیم نے کہا ہے کہ اگر انسان ان کا مرتکب ہو تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لینے والا ہے ان میں سے میں نے دو کا ذکر کیا تھا۔ایک ظلم اور دوسرے فساد کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں ظلم کو پسند نہیں کرتا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں فساد سے پیار نہیں کرتا تو ہر وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ظالم ہو یا فسادی ہو وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل نہیں کر سکتا بلکہ اس کی ناراضگی مول لینے والا ہوتا ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ اور احباب جماعت احمدیہ ( سوائے چند منافقوں کے ) یا پھر بہت ہی نئے نئے جوان احمدیوں کے جن کی تربیت ابھی صحیح نہیں ہوئی جو لاکھ میں شاید ایک ہوان کے سوا اور کسی کا رد عمل ایسا نہیں ہوگا کہ جس کے متعلق قرآنِ عظیم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ یہ کام کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لو گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے پیار کو تم حاصل نہیں کر سکو گے تو میں نے اس قسم کے دو بد اعمال کا پچھلے خطبہ میں ذکر کیا تھا۔میں نے بتایا ہے کہ قرآنِ عظیم نے بہت سے ایسے اعمال کا ذکر کیا ہے جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے اور بہت سے ایسے اعمال کا ذکر کیا ہے جن پر اللہ تعالیٰ کی رضا مترتیب ہوتی ہے اور انسان کو اپنے اس عظیم اور پاک اور عظمت اور جلال کے سرچشمہ اور تمام صفاتِ حسنہ سے متصف اور ہر ایک عیب سے پاک ذات کی محبت اس کومل جاتی ہے۔