خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 701
خطبات ناصر جلد پنجم 2+1 خطبہ جمعہ ۱۳ رستمبر ۱۹۷۴ء لئے یہی دو کافی ہیں۔یہ میرا کام ہے کہ اسے آہستہ آہستہ واضح کرتا چلا جاؤں۔رد عمل کے منفی پہلو پر بھی شاید مجھے کچھ اور کہنا پڑے گا۔پھر اس کے مثبت پہلو بھی بتاؤں گا اور اپنے وقت پر انشاء اللہ تبصرہ بھی کروں گا۔مجھے خوشی ہے کہ آج بہت سارے لوگ باہر سے بھی آئے ہوئے ہیں ان کو ایک حصہ مل گیا ہے۔باقی حصوں کے متعلق سننے کے لئے بھی وہ ہر جمعہ کو آیا جایا کریں اور احباب دعا ئیں بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مجھے صحت سے رکھے اور مجھے توفیق دے کہ میں اپنی ذمہ داریوں کو نباہ سکوں۔جیسا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ تھا آپ کا وجود اُمت محمدیہ کے وجود سے علیحدہ نہیں تھا۔اس لئے آپ کے نائبوں کے جو نا ئب ہیں ان کے مبائع کا وجود اور خلیفہ وقت کا وجود علیحدہ علیحدہ نہیں ہیں بلکہ ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔پس جو میں سمجھا اور جو خدا نے مجھے بتا یا اس کے آگے سارے جسم پر اثر ہونا چاہیے۔حتی کہ اس کا اثر انگلیوں کے ناخنوں اور پاؤں کی انگلیوں تک سرایت کرنا چاہیے یہ ایک حقیقت ہے اس کا سمجھنا ضروری ہے ورنہ اس کے بغیر ایسا نہ ہو کہ ہماری انگلی کسی اور طرف منہ کر کے ہل رہی ہو اور ہمارا دماغ خدا کی طرف نگاہ کئے اللہ تعالیٰ کی حمد میں مشغول ہو۔اس طرح کرنے پر تضاد پیدا ہو جائے اور ہماری انگلی اتنی بیمار سمجھ لی جائے کہ اسے کاٹنا پڑ جائے انشاء اللہ یہ نہیں ہوگا۔باقی جہاں تک کسی کے مسلم یا غیر مسلم ہونے کا سوال ہے یہ تو میں شروع سے کہہ رہا ہوں اس قرار داد سے بھی بہت پہلے سے کہتا چلا آیا ہوں کہ جس شخص نے اپنا اسلام لاہور کی مال (روڈ ) کی دکان سے خریدا ہو، وہ تو ضائع ہو جائے گا لیکن میں اور تم جنہیں خدا خود اپنے منہ سے کہتا ہے کہ تم (مومن ) مسلمان ہو تو پھر ہمیں کیا فکر ہے دنیا جو مرضی کہتی رہے تمہیں فکر ہی کوئی نہیں۔باقی تبصرے بعد میں ہوتے رہیں گے۔روزنامه الفضل ربوه ۱۴ را کتوبر ۱۹۷۴ء صفحه ۲ تا ۶ )