خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 675
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۷۵ خطبه جمعه ۱۶ را گست ۱۹۷۴ء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے جس مہدی کا دنیا انتظار کر رہی تھی وہ مہدی آگئے۔جماعت احمد یہ اُن کی جماعت ہے اور مہدی یہ بشارتیں لے کر آئے ہیں کہ دنیا میں انسانی شرف قائم کیا جائے گا اور انسانی دکھوں کو دور کیا جائے گا۔غرض میں نے مبلغین سے کہا کہ اس قسم کا ایک مختصر سا مضمون لکھیں جو ایک خط پر مشتمل ہو اور اسے ہر گھر میں پہنچا دیں تا کہ کم از کم ہر گھر کے مکینوں کے کان میں یہ آواز پڑ جائے کہ مہدی آگئے۔چنانچہ جب اس کام پر خرچ ہونے والی رقم کا اندازہ لگوایا گیا تو ایک چھوٹے سے ملک کا اندازہ سولہ لاکھ روپے تھا یعنی صرف ایک ملک کے ہر گھر تک یہ پیغام پہنچانے پر سولہ لاکھ روپے درکار تھے۔ایک اور ملک کے مبلغ نے کہا کہ پندرہ بیس لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔پھر جب مجموعی اندازہ لگا لیا گیا تو معلوم ہوا کہ صرف اس قسم کے ایک خط کو دنیا کے ہر گھر تک پہنچانے پر کئی ارب روپے کی ضرورت ہے اور یہ بھی کافی نہیں۔پھر کچھ اور سوچا کیونکہ انسان اپنی طرف سے اپنی عقل و سمجھ کے مطابق تدبیر کرتا ہے چنانچہ کچھ اور تدبیریں ذہن میں آئیں اور پھر ہمارے ملک میں یہ حالات پیدا ہو گئے۔ہمیں نہیں پتہ اور میں آپ کو سچ بتا رہا ہوں کہ مجھے نہیں علم کہ کن فرشتوں نے کہاں کہاں جا کر تاریں کھینچیں کہ دنیا کے ہر انسان نے بلکہ بعض دفعہ دن میں چار چار دفعہ مہدی معہود علیہ السلام اور آپ کی جماعت کا نام سنا۔چند ارب روپے ایک خط پہنچانے پر خرچ ہوتے تھے مگر خدا نے ایسا سامان کر دیا کہ ایک دن میں چار چار پانچ پانچ بلکہ دس دس دفعہ مہدی معہود علیہ السلام، اسلام اور جماعت احمدیہ کا نام لوگوں کے کانوں میں پڑا۔اخبارات روزانہ لکھ رہے تھے۔ہمارے ہاں رواج نہیں لیکن بہت سے ملکوں میں اخبارات کے قد آدم پوسٹر چھپتے ہیں۔ایک دوست جو چند دن کے لئے باہر گئے ہوئے تھے وہ جن جن ممالک میں گئے وہاں اُنہوں نے دیکھا کہ ہر صبح اخبارات کے پوسٹر پر جماعت احمدیہ کا ذکر ہوتا تھا۔جب ہم ان دکھوں کو دیکھتے ہیں اور اُن تکالیف پر نظر ڈالتے ہیں جن میں سے اس وقت جماعت گزری ہے تو ہمیں دُکھ ہوتا ہے۔اس میں شک نہیں مگر حقیقی احساس درد جس دل میں پیدا ہو جاتا ہے وہ اپنے بھائی کا شریک بن جاتا ہے۔اسی لئے جب یہ حالات رونما ہوئے تو ساری جماعت ایک دوسرے کے