خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 656
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء عظیم روحانی فرزند کے طفیل ہمیں اسلام کا صحیح چہرہ نظر آیا۔خدا تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں جو اسلام قائم کیا تھا مرور زمانہ کے ساتھ اس کے نقوش دُھندلے ہوتے رہے مگر زمانہ کی ہر صدی نے اسلام کی خاطر اللہ تعالیٰ کا یہ نشان دیکھا کہ ایسے بندے پیدا ہوتے رہے جوان دھندلے نقوش کو روشن کرتے رہے اور بدعات کو اسلام سے نکالتے رہے۔غرض اسلام کے ساتھ شروع ہی سے یہ دونوں باتیں لگی ہوئی ہیں۔اسی کو حضرت امام ابوحنیفہ نے اپنی رویاء میں دیکھا۔انہوں نے رویاء میں یہ دیکھا کہ گویا انہوں نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک کو کھولا اور آپ کے جسد اطہر کو باہر نکالا اور آپ کی بعض ہڈیوں کو پسند کیا اور بعض کو ناپسند کیا۔جنہیں نا پسند کیا انہیں پرے پھینک دیا اور جن کو پسند کیا ان سب کو پھر اسی روضہ میں دفنا دیا۔حضرت امام ابو حنیفہ ایک مخلص دل رکھتے تھے لیکن تعبیر الرؤیا اُن کی لائن نہ تھی۔یہ اُن کا مضمون نہ تھا۔اس لئے جب آنکھ کھلی تو سخت گھبرائے اور بڑے بے چین ہو گئے کہ میں نے کیا گناہ کیا۔یہ تو میری ہلاکت کا سامان پیدا ہو رہا ہے۔میں نے یہ کیا خواب دیکھ لیا۔اتفاقاًان کے گاؤں میں ابن سیرین ( جو ہمارے بڑے مشہور معبر ہیں اُن ) کے ایک شاگرد رہتے تھے۔حضرت امام ابو حنیفہ اُن کے پاس گئے اور بتایا کہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے۔میں تو ہلاک ہو رہا ہوں۔انہوں نے کہا گھبرانے کی کوئی بات نہیں اس کی تعبیر یہ ہے کہ سنت نبوی میں جو بدعات شامل ہو گئی ہیں اللہ تعالیٰ تمہیں اُن کو باہر نکال پھینکنے کی توفیق عطا فر مائے گا اور خالص سنت نبوی کو اُمت مسلمہ میں رائج کرنے کی تمہیں توفیق ملے گی۔اس سے جہاں ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کشوف ورڈ یا پر اُمت مسلمہ اعتراض نہیں کرتی آئی تعبیر کرتی آئی ہے، وہاں یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ زمانہ کے ساتھ ساتھ اسلامی عقائد میں بدعات کی ملونی ہوتی رہی تو ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا نظام قائم کر دیا کہ خدا تعالیٰ کے پاک اور مقدس رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام پیدا ہوتے رہے جن کے ذریعہ بدعات کو علیحدہ کر دیا جاتا تھا اور خالص سنتِ نبوی ، اسلام کے روشن اور صحیح نقوش امت محمدیہ میں جاری رکھے جاتے تھے۔ہمارے اس زمانہ کے متعلق بڑی پیشگوئیاں تھیں۔اسے ضلالت کا زمانہ کہا گیا تھا۔