خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 652
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۵۲ خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۷۴ء گے۔یہ خیال تو غیر معقول ہے۔بعض ایسی چیزیں ہیں جن کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا استفتِ قلبك تمہیں خدا نے فراست دی ہے تمہیں اسلامی نور نے نورانی زندگی عطا کی ہے اپنے ماحول میں دعائیں کرنے کے بعد اپنے فیصلے کر ولیکن میرے علم میں آج دنیا میں کوئی ایسا خطہ ا نہیں جس میں اچھا یا برا کوئی قانون نہ ہو تو جب ایسا علاقہ ہی کوئی نہیں تو پھر یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس قانون کی پابندی دنیا کے ہر خطہ کے احمدی کے لئے لازمی ہے۔میرا ایک تو مقام ہے جماعت ہائے احمدیہ پاکستان سے پیار رکھنے اور تعلق رکھنے کا ان کے لئے دعائیں کرنا۔ان کی تکالیف دور کرنے کے لئے خود تکالیف برداشت کر لینا۔ان کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے مطالعہ کرنا اور ساتھ دعائیں کرتے رہنا۔مطالعہ کے نتیجہ میں بہت سی باتیں نکل آتی ہیں۔پس ایک میری ذمہ داری ہے جماعت کے نقطۂ نگاہ سے۔اس کا تعلق صرف پاکستان سے نہیں بلکہ دنیا کے ہر خطہ میں بسنے والے احمدی سے ہے دنیا کے ہر خطہ میں احمدی موجود ہے اور دنیا کے ہر خطہ کے احمدی کے ساتھ میرا ایک زندہ تعلق ہے۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ زندہ تعلق کا کیا مطلب ہے؟ اگر ان کی سمجھ میں نہیں آتا تو بحث کرنے کی ضرورت نہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کے ساتھ میرازندہ تعلق ہے اور بسا اوقات اگر دنیا کے پانچ پانچ ہزار میل پر کسی خطہ میں کسی احمدی کو کوئی تکلیف پہنچ رہی ہو تو ظاہری مادی ذرائع کے علم کے بغیر میرے سینے میں تڑپ پیدا ہوتی ہے اور ان کے لئے میں دعائیں شروع کر دیتا ہوں۔جو نظام اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے یعنی علم غیب ، اس جس رنگ میں بھی وہ چاہے دے دیتا ہے۔اس کا تعلق اسی سے ہے۔اگر کسی کو یہ چیز سمجھ نہیں آتی تو وہ معذور ہے جو کسی کو چے سے واقف ہی نہیں وہ اس کوچے کے حسن کو کیسے جان سکتا ہے۔بہر حال دماغ میں جو یہ اعتراض یا سوال آجاتا ہے اس کو میں مختصر احل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔باقی جماعت بڑی صاحب فراست ہے اور یہ جو میں کہہ رہا ہوں کہ دنیا میں کوئی خطہ ایسا نہیں یہ بات میں نے اس لئے بتائی ہے کہ آپ یہ کہیں گے کہ دنیا کی باتیں ہم سے کر رہے ہیں اور سات ہزار میل کی دنیا اور نو ہزار میل کی دنیا کی باتیں ہم سے کر رہے ہیں اور ہمارے متعلق جو ہماری تکلیف ہے اس کے متعلق بات کریں