خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 646 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 646

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۴۶ خطبہ جمعہ ۱۹ ؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے ذریعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل سمجھا ہے۔) اچھے شہری وہ ہیں جو شہری حقوق کی ادائیگی کی کوشش کے علاوہ یہ ایمان بھی رکھتے ہوں کہ اپنے ملک سے پیار بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے اور یہ ادنی ترین شعبہ نہیں کیونکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان، ایک کم سوحصوں میں منقسم ہے۔( زبان کے یہ محاورے ہیں ضروری نہیں کہ کسی چیز کو یہ اسی عدد کے اندر محدود کر دیں بلکہ کثرت بتانا مقصود ہوتی ہے تو ) اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایمان کے بہت سے شعبے ہیں۔عربی زبان اور دوسری زبانیں بھی اس قسم کے محاورے استعمال کرتی ہیں۔بہر حال جس رنگ میں بھی اسے لیں ، خواہ لفظی معنی میں لیں تب بھی ایمان کا ایک کم سوشعبہ بڑی تعداد ہے اور اگر محاورہ کے معنی میں لیں تو پھر تو مفہوم یہ ہو گا کہ ایمان کا فی تعدا میں مختلف شعبوں میں تقسیم شدہ ہے اور سب سے بلند اور افضل شعبہ ایمان، ایمان باللہ ہے اور ادنی ترین شعبہ ایمان اماطة الأذى عَنِ الطَّرِيقِ ہے یعنی گذرگاہوں سے ایسی چیزوں کا ہٹانا جو وہاں سے گذرنے والوں کو تکلیف پہنچانے والی ہوں اور ایک جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ تو جوسب سے بلند ہے اس کے تو قریب بھی نہیں لیکن جو سب سے ادنی ہے اس سے بہر حال کچھ در جے او پر کا یہ شعبہ ایمان ہے۔شہریوں کے فرائض ایک تو حکومتیں خود متعین کرتی ہیں اور مختلف ممالک کی اس تعیین میں فرق بھی ہوتا ہے اور انسانی عقل اس فرق کو اپنے اپنے حالات کے مطابق برداشت بھی کرتی ہے ایک ماحول میں بعض صفات جو اچھے شہری سے متعلق ہیں ان پر زیادہ زور دیا جاتا ہے ایک دوسرے ماحول میں بعض دوسری صفات پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔اگر ہمارے نزدیک بھی یہی تعریف کافی ہوتی کہ قانونِ وقت اچھے شہریوں میں جو صفات دیکھنا چاہتا ہے وہ ایک احمدی میں ہونی چاہئیں گو ہمارے لئے کوئی پریشانی کی بات نہیں تھی۔ہم اپنے قانون دانوں کو کہتے ، اپنے پڑھے لکھوں کو کہتے کہ جماعت کے سامنے ان صفات کو بیان کرتے رہا کرو جو قانونِ وقت کے نزدیک اچھے شہریوں میں پائی جانی چاہئیں لیکن ہماری ذمہ داری اس سے بڑھ کر ہے۔ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ جس رب نے اپنے پیارے خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم