خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 46 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 46

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۶ خطبہ جمعہ ۹ فروری ۱۹۷۳ء نہیں رہتا۔یہ باتیں گھروں میں، اجتماعوں میں اور جلسوں میں اور جب ان کے بچے اکٹھے ہوتے ہیں دہرانی چاہئیں۔اب اگلی نسل کو سنبھالنے کا وقت آ گیا ہے چھوٹے بچوں کو ایک ایک دو دو چھوٹے چھوٹے واقعات ایسے رنگ میں سمجھائے جائیں کہ وہ سمجھ جائیں اور چوتھی اور پانچویں اور اس سے بڑی جماعت والے بچوں کے لئے ان واقعات پر مشتمل کتابیں شائع ہوئی چاہئیں اور بچوں کے لئے کافی مواد موجود ہے جس کا استعمال ہونا چاہیے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی تشریف لے گئے وہاں کے علماء ظاہر نے آپ سے کہا کہ ہم سے مناظرہ کر لو یعنی ایک دوسرے کے مقابلہ میں تقریریں ہونی چاہئیں۔آپ نے فرما یا ٹھیک ہے میں تمہارا مہمان ہوں اس لئے امن قائم رکھنے کی ذمہ داری تمہیں اٹھانی چاہیے۔چونکہ یہ ایک معقول بات تھی اس لئے علماء ظاہر نے یہ مطالبہ مان لیا اور قول دیا کہ ہم یہ ذمہ داری اٹھائیں گے لیکن اس وعدے کے باوجود جس وقت آپ تیار ہو کر اس مقام پر جانے لگے جہاں گفتگو کرنی تھی تو بعض لوگوں نے آپ کی رہائش گاہ پر حملہ کر دیا وہاں دو سحن تھے وہ لوگ باہر کے صحن کا دروازہ توڑ کر اندر گئے اور اندر کے صحن کا دروازہ توڑ رہے تھے کہ انہیں کسی نامعلوم غیبی طاقت نے روکا اور وہ واپس چلے گئے۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ صرف بارہ آدمی تھے لیکن سینکڑوں کا مجمع آیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو واپس کر دیا۔اس کے بعد آپ نے ان علماء ظاہر کر کہلا بھیجا کہ اب میں نے اپنی حفاظت کا سامان کرلیا ہے۔جہاں چاہو میں آجاؤں گا تم لوگوں نے جو ذمہ داری لی تھی اس کو تم نباہ نہیں سکے اور معاملہ الٹ ہو گیا۔انہوں نے کہا جامع مسجد میں آجاؤ دہلی کی جامع مسجد بہت بڑی ہے اور بے تحاشا ہجوم وہاں اکٹھا ہو چکا تھا جو ان پڑھ تھے اور جن کو فساد اور فتنہ کے لئے اکسایا گیا تھا وہاں آپ بارہ آدمیوں کو لے کر پہنچ گئے۔حکومت نے بھی حفاظت کا کچھ سامان کیا ہوا تھا لیکن اس مجمع کے سامنے کچھ درجن پولیس والے تو نہیں ٹھہر سکتے تھے۔غرض انہوں نے وہاں بھی بات نہیں کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب تبادلۂ خیال کرنے لگے اور جب وہ مقصد پورا نہ ہوا تو آپ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں واپس آگئے اور جو بظا ہر