خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 632 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 632

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۳۲ خطبہ جمعہ ۲۸ جون ۱۹۷۴ء نا پاک کر دیوے اور پھر تم کاٹے جاؤ۔پھر بعد اس کے کوشش کرو اور نیز خدائے تعالیٰ سے قوت اور ہمت مانگو کہ تمہارے دلوں کے پاک ارادے اور پاک خیالات اور پاک جذبات اور پاک خواہشیں تمہارے اعضا اور تمہارے تمام قومی کے ذریعہ سے ظہور پذیر اور تکمیل پذیر ہوں تا تمہاری نیکیاں کمال تک پہنچیں۔کیونکہ جو بات دل سے نکلے اور دل تک ہی محدودر ہے وہ تمہیں کسی مرتبہ تک نہیں پہنچا سکتی۔خدا تعالیٰ کی عظمت اپنے دلوں میں بٹھاؤ اور اس کے جلال کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو۔اور یا درکھو کہ قرآن کریم میں پانسو کے قریب حکم ہیں اور اس نے تمہارے ہر یک عضو اور ہر یک قوت اور ہر یک وضع اور ہر یک حالت اور ہر ایک عمر اور ہر یک مرتبہ فہم اور مرتبہ فطرت اور مرتبہ سلوک اور مرتبہ انفراد اور اجتماع کے لحاظ سے ایک نورانی دعوت تمہاری کی ہے۔سو تم اس دعوت کو شکر کے ساتھ قبول کرو اور جس قدر کھانے تمہارے لئے تیار کئے گئے ہیں وہ سارے کھاؤ اور سب سے فائدہ حاصل کرو۔جو شخص ان سب حکموں میں سے ایک کو بھی ٹالتا ہے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عدالت کے دن مواخذہ کے لائق ہو گا۔اگر نجات چاہتے ہو تو دین العجائز اختیار کرو اور مسکینی سے قرآن کریم کا جوا اپنی گردنوں پر اُٹھاؤ کہ شریر ہلاک ہو گا اور سرکش جہنم میں گرایا جائے گا۔پر جو غریبی سے گردن جھکاتا ہے وہ موت سے بچ جائے گا۔دنیا کی خوشحالی کی شرطوں سے کہ ہمیں یہ ملے اور وہ ملے ) خدا تعالیٰ کی عبادت مت کرو کہ ایسے خیال کے لئے گڑھا در پیش ہے۔بلکہ تم اس لئے اس کی پرستش کرو کہ پرستش ایک حق خالق کا تم پر ہے۔چاہیے پرستش ہی تمہاری زندگی ہو جاوے اور تمہاری نیکیوں کی فقط یہی غرض ہو کہ وہ محبوب حقیقی اور محسن حقیقی راضی ہو جاوے کیونکہ جو اس سے مکمتر خیال ہے وہ ٹھوکر کی جگہ ہے۔خدا بڑی دولت ہے۔اس کے پانے کے لئے مصیبتوں کے لئے تیار ہو جاؤ۔وہ بڑی مراد ہے۔اس کے حاصل کرنے کے لئے جانوں کو فدا کرو۔عزیز و!! خدائے تعالیٰ کے حکموں کو بے قدری سے نہ دیکھو۔موجودہ فلسفہ کی زہر تم پر اثر نہ کرے۔ایک بچے کی طرح بن کر