خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 627
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۲۷ خطبہ جمعہ ۲۸ جون ۱۹۷۴ء بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا کی راہوں پر جس حد تک تمہارے لئے ممکن ہو چلتے رہنا اور اُن لوگوں کی طرح نہ بن جانا جن کی بداعمالیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا غضب آسمانوں سے نازل ہوا۔جو آیت میں نے تلاوت کی اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کون لوگ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کی رضا نازل ہوتی ہے یا وہ کون لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کا غضب لے کر لوٹتے ہیں؟ لیکن ہمیں یہ بتا دیا کہ انسان ایسے زمانوں میں کہ جب خدا تعالیٰ کا کوئی مامور ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں ) شریعت حقہ اسلامیہ کو قائم کرنے کے لئے دنیا میں آئے گا تو ایک جماعت انسانوں کی وہ ہو گی جو خدا تعالیٰ کی رضا کی راہوں پر چلنے والی ہوگی اور ایک جماعت وہ ہوگی جن کے اعمال کے نتیجہ میں ان کو رضا نہیں ملے گی بلکہ خدا تعالیٰ کا غضب ان پر نازل ہو گا۔بڑے خوف اور ڈر کا مقام ہے۔اسی لئے میں آپ کو بار بار کہتا ہوں کہ عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی دہلیز پر سجدہ ریز رہو اور اُس سے کہو کہ اے خدا! ہم انسان ہیں اور کمزور ہیں تو ہمارے گناہوں کو بخش اور ہم سے اُس پیار کا سلوک کر جس پیار کا تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور آپ کی دی ہوئی بشارتوں کے نتیجہ میں مہدی معہود علیہ السلام کے ذریعہ ہمیں وعدہ دیا اور بشارت دی۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک لمبا سا اقتباس، جو میں نے انتخاب کیا ہے پیش کروں گا۔اس میں تو اتنی باتیں آگئی ہیں کہ اگر میں ان سب کو کھول کر بیان کرنے لگوں اور تشریح کرنے لگوں تو یہ وقت اس کے لئے مناسب نہیں اور گرمی جو میری بیماری ہے وہ بھی مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔میں جب یہاں کھڑا ہوتا ہوں تو تکلیف محسوس کرتا ہوں لیکن جب میں بول رہا ہوتا ہوں تو بالکل تکلیف محسوس نہیں کرتا۔جب میں آپ کے چہروں پر بشاشت اور مسکراہٹیں دیکھتا ہوں تو میرا دل خوشی سے بھر جاتا ہے اور جب میں آپ کے چہروں پر اُداسی دیکھتا ہوں تو مجھے فکر لاحق ہوتی ہے اور میں آپ کے لئے دُعائیں کرتا ہوں۔یہ زمانہ تو وہ ہے جس میں کہا گیا تھا کہ خوش ہو اور خوشی سے اُچھلو کہ اسلام کے غلبہ کی بشارت آسمانوں سے آگئی۔اب ہم اپنی ذاتی تکلیفوں کے نتیجہ میں ان مسکراہٹوں کو اپنے چہروں سے کیسے