خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 626
خطبہ جمعہ ۲۸ جون ۱۹۷۴ء خطبات ناصر جلد پنجم۔۶۲۶ تصور اور خیال بھی تمہارے دماغوں میں نہیں آسکتا۔ایک فرد کے لئے اتنا عظیم انعام ہے لیکن فرد کے لئے حقیقی اور ایسا انعام جو ہر احمدی مخلص اور قربانیاں دینے والے کے لئے ہے وہ یہ ہے کہ اگر میرے احکام پر تم کار بندر ہو گے اور میری محبت میں تم زندگی گزارو گے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو اپناؤ گے تو جنتوں کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے اور پھر یہ بھی ایک بڑے ہی پیار کا اعلان تھا کہ بہتوں کو اُس نے کہا کہ میں جنت کے آٹھوں دروازے کھول دوں گا اور تم کو کہوں گا کہ جس دروازے سے چاہو اندر داخل ہو جاؤ۔اس سے زیادہ پیار اللہ تعالیٰ کا اور کیا ہو سکتا ہے؟ تمہیں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ تم میں سے ہر شخص کی زندگی کی میں حفاظت کروں گا۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ نہیں کہا کہ میں تم میں سے ہر شخص کے اموال کی حفاظت کروں گا۔خدا تعالیٰ نے تمہیں ہر گز انفرادی طور پر یہ بشارت نہیں دی کہ تم میں سے ہر ایک کی عزت کی حفاظت کے لئے آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے اور کسی ایک احمدی کو بھی عزت کی قربانی نہیں دینی پڑے گی یا مال کی قربانی نہیں دینی پڑے گی یا جان کی قربانی نہیں دینی پڑے گی لیکن چونکہ جماعت، افراد کے مجموعہ کا نام ہے اس لئے یہ کہا کہ وہ لوگ جن کو انفرادی طور پر جان کی یا مال کی یا عزتوں کی قربانی دینی پڑے گی۔( عزتوں کی قربانی کا حلقہ زیادہ وسیع ہے۔اس کے بعد اموال کی قربانی کا حلقہ ذرا تنگ ہے اور جان کی قربانی کا حلقہ اس سے بھی زیادہ تنگ ہے لیکن بہر حال ) وہ تو دینی پڑے گی لیکن اگر تم بحیثیت جماعت نبی اکرم خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چنیدہ اور پیارے گروہ کی حیثیت سے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ گے تو تم میں سے اکثر کی جانیں بھی بچائی جائیں گی اور اموال بھی بچائے جائیں گے اور عزتیں بھی بچائی جائیں گی اور اس دنیا میں بھی دنیا دار جوخدا کو پہچانتا نہیں خدا تعالیٰ کے اُس پیار کے نظارے دیکھے گا جوتم پر نازل ہو گا لیکن قربانیاں تمہیں بہر حال دینی پڑیں گی اور ہمیں اس آیت میں بھی ( جو میں نے ابتدا میں تلاوت کی تھی) اس بات سے ڈرایا گیا ہے کہ دیکھو! اپنے اوپر دو لعنتیں نہ اکٹھی کر لینا۔ایسا نہ ہو کہ ایک ہی وقت میں دنیا بھی تم پر لعنت کر رہی ہو اور خدا تعالیٰ آسمان سے بھی تم پر لعنت بھیج رہا ہو۔ایسا نہ کرنا !