خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 605 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 605

خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۲۱ جون ۱۹۷۴ء طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ نَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ (البقرۃ:۱۵۶) مال کے نقصان سے تمہارا امتحان لیا جائے گا اور تمہیں جانوں کی قربانی بھی دینی پڑے گی۔پھر اس کے ساتھ ہی فرمایا دنیا کی حسنات کے حصول کے لئے تمہاری جو کوشش ہوگی اور اس کے عام حالات میں جو نتائج نکلنے چاہئیں یا کوشش کا ثمرہ ملنا چاہیے اس سے تم محروم کئے جاؤ گے گویا تمہاری کوشش کے ثمرہ یا نتیجہ سے تمہیں محروم کر دینے کی صورت میں بھی تمہاری آزمائش کی جائے گی۔اس وقت باہر سے جو اطلاعات آرہی ہیں ان سے یہ پتہ لگتا ہے کہ ہمارے بھائیوں کی جوع ( بھوک ) کے امتحان میں ڈالنے کی طرف زیادہ توجہ ہے۔یہ کوشش کی جارہی ہے کہ احمدیوں کو کھانے کو نہ ملے، پینے کو نہ ملے۔جب میرے پاس باہر سے ایسی رپورٹیں آتی ہیں تو میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں اور اپنے ملنے والوں کو بھی یہ سمجھا تا ہوں کہ دیکھو ہمارے پیارے اور محبوب آقا حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکی زندگی میں بعض تاریخوں کے مطابق اڑھائی سال تک اور بعض کے مطابق تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور کیا گیا اور اس وقت جتنے بھی مسلمان تھے وہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب کی آزمائش کی گئی۔ان کا امتحان لیا گیا اور اڑھائی سال تک یہ کوشش کی گئی کہ نہ ان کو کھانے کے لئے کچھ ملے اور پینے کے لئے۔گو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے یہ انتظام تو کیا کہ کھانے کو اتنا ملتا رہے کہ وہ زندہ رہ سکیں لیکن اللہ تعالیٰ نے چونکہ ان کا امتحان لینا تھا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ان کے صدق و وفا کا دنیا میں اعلان ہونا تھا اور اس نشانِ عظیم کو قیامت تک کے لئے قائم رکھنا تھا اس لئے باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سب کچھ دے سکتا تھا کیونکہ دنیا میں حکم اسی کا چلتا ہے اور دنیا کی سب طاقتیں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر سکتا تھا کہ اس قید کے زمانہ میں بھی مسلمانوں کو معمول کے مطابق کھانا ملتا رہے مگر ایسا نہیں ہوا۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اتنا ہی دیا جس سے ان کی زندگی قائم رہ سکے۔اس کے لئے مادی ذرائع کی بھی ضرورت نہیں تھی۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہ سے فرمایا ایک کے بعد دوسرے دن لگا تار روزے نہ رکھا کر و صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ تو اسی طرح روزے رکھتے ہیں۔