خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 509
خطبات ناصر جلد پنجم خطبه جمعه ۱٫۵ پریل ۱۹۷۴ء روحانی بند کے نتیجہ میں انسان کی روحانی حرکت نہایت تیزی کے ساتھ بلندی کی طرف محو پرواز ہوتی ہے خطبه جمعه فرموده ۵ را پریل ۱۹۷۴ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔چند ہفتوں سے بیماری چلی آرہی ہے اور بار بار تکلیف ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے کمزوری ہو گئی ہے۔دوست دعا کریں اللہ تعالیٰ صحت دے اور زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں (انسان کے علاوہ جو مخلوق ہے ) مختلف وجودوں میں دو مختلف اور متضاد طاقتیں پائی جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ بعض ایسی چیزیں ہیں جن کی فطرت میں یہ ودیعت کیا گیا ہے کہ وہ نشیب کی طرف حرکت کریں مثلاً پانی ہے۔پانی فراز یعنی بلندی کی طرف نہیں بہتا بلکہ ہمیشہ نشیب کی طرف بہتا ہے۔اس کے برعکس بعض گیسز (Gases) ہیں جو متضاد فطرت رکھتی ہیں مثلاً ربڑ کے غباروں میں ہوا بھر دیں تو وہ آسمان کی طرف اُڑنے لگتے ہیں۔پس یہ دو متضاد صفات ہیں جو مختلف قسم کی چیزوں میں ہمیں نظر آتی ہیں لیکن انسان میں ایک ہی وقت میں گہرائیوں کی طرف لڑھکنے کی صفت بھی پائی جاتی ہے اور بلندیوں کی طرف پرواز کرنا بھی اس کی فطرت میں داخل ہے۔روحانیت کے علاوہ انسان کے اندر جو دوسری طاقتیں ہیں وہ