خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 489
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۸۹ خطبہ جمعہ ۸ / مارچ ۱۹۷۴ء اور قوت نہیں ہے بلکہ ہم ہر خیر خدا تعالیٰ ہی سے حاصل کرتے ہیں اس لئے ہمارے دلوں میں کوئی فخر نہیں پیدا ہوتا۔ہمارے سر اونچے نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ خدا کے حضور جھکے رہتے ہیں ہم بندوں کی خدمت میں مگن ہیں ہم اس اصول کو مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے جو حقوق قائم کئے ہیں وہ ادا ہونے چاہئیں۔اسلام نے اسلامی معاشرہ کی بنیاد ہی اس بات پر رکھی ہے مگر اسے مسلم دنیا بھول چکی ہے یا اگر بھولی نہیں تو بھی اسلام کا صرف ایک دھندلا سا تصور باقی رہ گیا ہے حالانکہ شریعت اسلامیہ کی رو سے مسلمانوں پر فرض عائد کیا گیا ہے کہ اُن کا کتنا بھی شدید دشمن کیوں نہ ہو اس کے وہ حقوق جو خدا تعالیٰ نے قائم کئے ہیں وہ اُسے ملنے چاہئیں اور کبھی یہ جرات نہیں کرنی چاہیے کہ کوئی بندہ اللہ کے بندوں کو اُن کے حقوق سے محروم کر دے۔یہ ایک بڑا ہی حسین اور پیارا معاشرہ ہے جس کے نمونے ہماری تاریخ میں بھی پائے جاتے ہیں اور ہم سے پہلے مسلمان بزرگوں کی زندگیوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔پس کتنا امن پیدا ہوسکتا ہے اگر ہم اس اصول کو اپنا کر اسے معاشرہ میں جاری کر دیں۔جو حق خدا نے قائم فرمایا ہے اس سے دشمن سے دشمن آدمی کو بھی محروم نہیں کیا جا سکتا۔اسلام کی رُو سے آدمی کا جو حق قائم کیا گیا ہے وہ بڑا عظیم ہے۔خدا نے فرمایا ہے کہ ہر شخص خواہ وہ تمہارا دشمن ہے یا دوست، تمہارا عزیز رشتہ دار ہے یا کوئی دوسرا جسے تم پہچانتے بھی نہیں ، غرض ہر فرد واحد کا تم پر یہ حق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے نفس میں اور اس کے ماحول میں جو قو تیں اور استعداد میں پیدا کی ہیں اُن کی کامل نشو و نما ہونی چاہیے۔تمہارا یہ فرض ہے کہ قطع نظر اس بات کے کہ تمہارے ساتھ اس کے ذاتی تعلقات کیسے ہیں تم یہ دیکھو کہ اُس کا حق اُسے ملتا ہے یا نہیں ، اس کی تمام خدا داد صلاحیتوں کی کامل نشو ونما ہوتی ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں ہور ہی تو نشو ونما کا انتظام کرو۔یہ ایک حسین تعلیم ہے جس کا تصور شاید کہیں کھو کھلے طریقہ پر الفاظ میں ظاہر ہوا ہو تو ہوا ہو عملاً کہیں بھی نظر نہیں آتی۔یہ شرف صرف اسلام کو حاصل ہے۔اسلامی تعلیم پر مسلمانوں نے مجموعی طور پر نشاۃ اولی میں عمل کیا پھر بعد میں آنے والے مختلف لوگوں یا گروہوں نے مختلف اوقات میں اور مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں اس پر عمل کیا اور اب پھر اُمت محمدیہ میں جماعت احمدیہ کے