خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 445
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۴۵ خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۷۴ء رحمتوں کے نتیجہ میں سولہ سال بعد ظاہر ہوتی ہے، اس میں عظمت اور شان پیدا ہوتی چلی جائے گی۔ہم نے اپنے خون اور پسینے کی کمائی سے ، ہم نے اپنے جذبات کی قربانیوں سے، ہم نے اپنی جانوں کی قربانیوں سے اور ہم نے دنیا والوں سے دُکھ اُٹھا کر خدا تعالیٰ کے حضور سب کچھ پیش کرنے کے نتیجہ میں اسلام کے غلبہ کے سامان پیدا کرنے ہیں۔اس لئے ہماری جو ذمہ داریاں ہیں وہ کسی وقت بھی ہماری نظروں سے اوجھل نہیں ہونی چاہئیں تا کہ اللہ تعالیٰ کی بشارتیں پوری ہوں اور اس کی رحمتیں ہم پر نازل ہوں۔ہم عاجز بندے ہوتے ہوئے بھی پورے وثوق اور توکل کے ساتھ یہ امید رکھتے ہیں کہ جتنی ہماری کوشش ہے اللہ تعالیٰ کا فضل اس سے ہزار گنا، لاکھ گنا بلکہ کروڑ گنا زیادہ نتائج نکال دے گا اور ایسا ہی ہوگا انشاء اللہ تعالی۔یہ ایک منصوبہ ہے اور بڑا پھیلا ہوا منصوبہ ہے اس لئے اس کا حساب رکھنے کی بھی شروع ہی سے فکر کرنی چاہیے۔اس کے لئے ابھی باقاعدہ دفتر تو نہیں کھلا لیکن میں نے ایک دوست کو اپنے ساتھ معاون کے طور پر لگایا ہوا ہے اُن کو میں نے یہ ہدایت کی ہے کہ جس طرح لائبریری میں کتب کے کارڈ ہوتے ہیں اسی قسم کی کیبنٹ (چھوٹی سی الماریاں ) بنا کر شروع ہی سے اس میں اپنا پورا ریکارڈ رکھیں مثلاً کراچی ہے۔یہ ک" کے نیچے آجائے گی اور پھر اس کے نیچے حروف تہجی ہی کے لحاظ سے دوستوں کے نام آجائیں گے۔اس طرح ریکارڈ مکمل ہو جائے گا۔اگر شروع ہی سے حساب باندھ دیا جائے تو آسانی رہتی ہے لیکن اصل جو ریکارڈ ہے حساب وغیرہ رکھنے کا یا رجسٹر وغیرہ مکمل کرنے کا اس کا انتظام ضلع کی جماعتوں کو کرنا چاہیے۔اگر ضلعی نظام سہولت سے ایسا کر سکے تو انہیں ضرور کرنا چاہیے اگر نہ کر سکے تو پھر بڑی جماعتوں کو آزادانہ طور پر یہ کہا جائے کہ جس طرح وہ دوسرے چندوں کے حساب رکھتے ہیں اسی طرح یہ حساب بھی رکھیں لیکن نگرانی ضلعی نظام کرے تا کہ حسابات شروع سے بالکل صاف اور ستھرے ہوں۔کسی وقت بھی ہمیں یہ پریشانی نہ ہو کہ دس پندرہ دن تک پانچ سات آدمی لگیں گے تب حساب کی صحیح شکل ہمارے سامنے آئے گی۔پس جس طرح شروع ہی سے حساب باندھا جاتا ہے (اور اس میں بھی انسانی عقل کافی ترقی کر چکی ہے ) اس طرح اس کا بھی حساب رکھا جائے اور یاد دہانیاں کرائی