خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 432 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 432

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۳۲ خطبہ جمعہ ۲۵ جنوری ۱۹۷۴ء خلاف ہماری جو جد و جہد اور لڑائی ہے اس کے لئے ہمیں دشمن کے ماڈی وسائل کے اثر کو کالعدم کرنے کے لئے ایسی روحانی طاقت کی ضرورت ہے جو خدا سے حاصل ہوتی ہے اور جس کے حصول کا ایک ذریعہ اس آیت میں استغفار اور تو بہ بتایا گیا ہے اور جس کے نتیجہ میں یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ برکتوں کے سامان پھر آسمان سے پیدا ہوں گے اور قوت کے بعد مزید قوت عطا ہوتی چلی جائے گی۔ان وسائل سے خدا تعالیٰ جو قدرت کا اور قوت کا اور طاقت کا اور عزت کا اور غلبہ کا اور قہر کا سرچشمہ ہے اُس سے قوت لیکر ہمیں اس میدان میں دشمن اسلام، دشمن روحانیت ، دشمن مذہب اور اللہ تعالیٰ کے خلاف صف آرا ہونے والی فوجوں کا مقابلہ کرنا ہے اور کامیابی کے ساتھ کرنا ہے اس وقت جیسا کہ میں نے بتایا ایک خلا پیدا ہو رہا ہے اور جلدی جلدی بڑھ رہا ہے۔اس کے لئے تدبیر جتنی ہم کر سکتے ہیں وہ ہمیں کرنی چاہیے۔اس کے لئے ہمیں اس سے زیادہ مجاہد چاہئیں اس سے زیادہ مبشر چاہئیں۔اس سے زیادہ مبلغ چاہئیں جتنے کہ مبلغ بنانے والے ہمارے ادارے اس وقت بنارہے ہیں۔اعلیٰ پیمانہ پر مبلغ بنانے والا ادارہ تو جامعہ احمد یہ ہے۔دوسرے بھی بعض ادارے ہیں لیکن وہ اس معیار کے مبشر پیدا نہیں کر سکتے نہ اُن کے قیام کا یہ مقصد ہے کہ جو غیر ممالک میں جا کر اسلام کے جرنیل کی حیثیت میں ان طاقتوں کا مقابلہ کریں، اگر ہم صرف جامعہ احمدیہ پر انحصار کریں تو جس قدر انسانوں کی مخلص انسانوں کی ، مومن انسانوں کی ، صاحب فراست انسانوں کی ، اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے والے انسانوں کی ، خدا سے اخلاص کا تعلق رکھنے والے انسانوں کی ، خدا سے عہد وفا جو انہوں نے باندھا ہے اس پر عزم کے ساتھ اور استقامت کے ساتھ قائم اور قائم رہنے والے انسانوں کی ضرورت ہے اتنے انسان تو یہ ادارہ ہمیں شاید اگلے سوسال میں بھی نہ دے سکے لیکن ہمیں آج ضرورت ہے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ہمیں اُن بڑی عمر کے احمدیوں کی ضرورت ہے جو اگر چہ جامعہ احمد یہ یا اس قسم کے کسی ادارہ میں تو نہ پڑھے ہوں لیکن اُن کی زندگی صحیح اور حقیقی اسلام کے مطالعہ میں خرچ ہوئی ہو اور جن کے دل خدا تعالیٰ کی محبت سے معمور ہوں اور جن کا اپنے رب سے اخلاص کا تعلق ہو اور جن کی ہمت جوان ہوا گر چہ عمر کے لحاظ سے وہ جواں نہ ہوں وہ آگے آئیں۔وہ ریٹائر ہو گئے دنیوی کاموں سے۔وہ