خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 408
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۰۸ خطبه جمعه ۲۱ / دسمبر ۱۹۷۳ء بھڑک سکتے ہیں یعنی شام سے اس جنگ کی ابتدا ہو سکتی ہے۔تاہم یہ ایک انذاری پیشگوئی ہے جو دعاؤں ،صدقات ، اصلاح نفس اور توبہ و استغفار سے مل سکتی ہے۔اگر انسان اسلام نہ بھی لائے لیکن اپنے دل میں ایک حد تک خشیت اللہ پیدا کرے تب بھی اگر وہ اپنی فطرت کے تقاضوں کے مطابق عقل سے کام لے تو ان خطرات سے بچ سکتا ہے۔اگر انسان نے اسلام کی روشنی حاصل نہ بھی کی ہو تب بھی فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم :۳۰) کی رُو سے انسانی فطرت کی کوئی نہ کوئی جھلک اور دھندلی سی روشنی کام دے سکتی ہے اگر چہ وہ اتنی منور نہیں ہوتی ، اس میں اتنی چمک نہیں ہوتی جتنی اسلام کے نور سے فطرتِ انسانی منور ہو کر دنیا میں روشنی پیدا کرتی ہے لیکن بہر حال انسانی فطرت کے اندر ایک دھندلی سی روشنی ضرور پائی جاتی ہے اس کے مطابق ہی اگر دنیا کام کرے اور خدا کی طرف رجوع کرے تب بھی لوگ خدا کے غضب سے بچ سکتے ہیں اور ایٹمی جنگوں کی تباہی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔اس وقت انسان اپنے ہی ہاتھوں تباہی کے سامان پیدا کر رہا ہے اور ایک بین الاقوامی فساد کے خطرہ کا موجب بن رہا ہے۔اس عالمی خطرہ کو دور کر نے کے لئے بعض کوششیں شروع ہو رہی ہیں۔ممکن ہے آج شروع ہو جائیں یا چند دن کے التواء کے بعد شروع ہوں۔پس اسلام نے دنیا میں امن اور سلامتی کی فضا پیدا کرنے کی تعلیم دی ہے۔قرآن کریم نے امن و سلامتی اور صلح و آشتی کی فضا پیدا کرنے اور اسے قائم رکھنے کے لئے جو تعلیم دی ہے اس میں تمام بنی نوع انسان مخاطب ہیں۔ہر انسان کو (خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلمان ) مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم نے دنیا میں فساد نہیں کرنا ورنہ تمہیں اس کی سزا ملے گی۔امن وسلامتی میں انسان کی بہتری ہے اس لئے انسان کو دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کر کے دنیوی فتنہ وفساد کو دور کرنے کی کوشش کرنی پڑے گی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے صرف جماعت احمدیہ ہی وہ جماعت ہے جس کی ( إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ کچھ کمزور احمدی بھی ہوتے ہیں اس سے میں انکار نہیں کرتا لیکن ) بحیثیت مجموعی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو دعاؤں پر تکیہ کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت رکھتی ہے۔اللہ تعالیٰ سے پیار