خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 343
خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء خطبات ناصر جلد پنجم ۳۴۳ قرآن کریم کی کیا ضرورت تھی؟ اس کا جواب آپ نے بڑے لطیف رنگ میں دیا۔میں مختصراً اس وقت اپنے الفاظ میں بیان کروں گا۔آپ نے فرمایا تم مجھ سے یہ پوچھتے ہو کہ تو رات کے ہوتے ہوئے قرآنِ عظیم کی کیا ضرورت ہے اور میں تمہیں یہ بتا تا ہوں کہ قرآنِ عظیم اپنی پوری تفصیل اور شان کے ساتھ آخری کامل اور مکمل ہدایت اور شریعت ہے۔اس کے شروع میں قرآن کریم کا ایک خلاصہ سورۃ فاتحہ کی شکل میں جو چھوٹی سی سورۃ ہے اور صرف سات آیات پر مشتمل ہے۔سورۃ فاتحہ میں جو رموز و اسرار روحانی بیان ہوئے اگر تم اپنی تو رات کی ساری کتابوں میں سے وہ نکال دو تو ہم سمجھیں گے کہ تمہارے پاس کچھ ہے لیکن اگر تم قرآن کریم کی ابتدائی سورۃ کی سات آیات کے معانی وروحانی خزائن جو اس میں بیان ہوئے ہیں تو رات میں سے نہ نکال سکو تو تمہارے منہ سے یہ سوال نہیں سجتا کہ پھر قرآن مجید کی ضرورت کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پھر سورۃ فاتحہ کی تفسیر لکھی اور مختلف پہلوؤں سے لکھی، مختلف کتب میں لکھی۔اب وہ تفسیر جس کے متعلق یہ چیلنج تھا کہ اپنی ساری تو رات میں سے اس کے معانی کے برابر بھی نکال دو تو ہم سمجھیں گے کہ تمہارے ہاتھ میں کچھ ہے جو چیلنج انہیں منظور نہیں ہوا۔اتنی زبردست جو تفسیر لکھی گئی تو وہ سارے بطونِ قرآن تھے جو ظاہر ہوئے کیونکہ جو اعتراضات آج کی عیسائی دنیا کر رہی تھی وہ پرانے نہیں تھے یا ان میں سے اکثر پرانے نہیں تھے۔جو پرانے تھے ان کے تو جواب پہلے آچکے تھے۔سورۃ فاتحہ کی وہ تفسیر اتنی عظیم ہے کہ ہمارے بڑے بڑے بزرگ مطالعہ کا شوق رکھنے والے اچھے حافظہ والوں میں سے بھی بعض نے مجھے کہا کہ جب ہم یہ پڑھتے ہیں تو اتنی ٹھوس اور مضامین سے اتنی بھری ہوئی ہے کہ بعض دفعہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا ذہن اس کو برداشت نہیں کر سکتا اور اس کو مزید سمجھنے کے لئے آرام ملنا چاہیے۔اب جس شخص کو خدا تعالیٰ نے اس آخری زمانہ میں اسلام پر انتہائی حملوں کے وقت میں اسلام کی مدافعت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے ثبوت کے لئے اس معلم حقیقی نے خود معلم بن کر قرآن کریم کے بے شمار بطون سکھائے۔آج۔