خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 15
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۵ خطبہ جمعہ ۱۹ / جنوری ۱۹۷۳ء کے نمائندے آکر حکومت اور قانون بناتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم جو دائرہ اختیارات قائم کریں گے اس کے اندر حکومت وقت کو رہنا پڑے گا چنانچہ وہ قانون بناتے ہیں اور صدر کا یا وزیر اعظم کا یا وزارت کا اختیار نہیں ہوتا کہ اپنے لئے خود قانون بنائے اور جو اختیارات وہ چاہے لے لے۔پس اس دنیا میں جو جمہوریت ہے یا حکومتوں کے دیگر مختلف طریق کار ہیں اس سے بھی ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ عقلاً جس نے بادشاہ بنایا اسی نے دائرہ اختیارات کی تعیین کرنی ہے۔تو الله الله المُلک میں تیسری چیز جو میں بیان کر رہا تھا یہ ہے کہ چونکہ بادشاہت اللہ تعالیٰ نے دی ہے اس لئے بادشاہت کے اختیارات وہ ہوں گے جن کا بیان اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کے ذریعہ کرے گا۔خودا پنی طرف سے بادشاہ کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔پس اگر ان تین پہلوؤں سے الله الله المُلک پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کے رب کے بارہ میں بحث کرنے والے کا جواب جہالت پر مبنی تھا۔قرآنِ کریم نے اس نکتے کے متعلق آیات تو بہت سی بیان کی ہیں مگر شاید میں اس وقت ان کی تفصیل میں نہ جاسکوں اور نہیں جا سکتا کیونکہ میری طبیعت ناساز ہے۔چوتھی چیز جس کا یہاں ذکر آیا ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی حیات اور ممات کا مالک ہے اور کسی اور مخلوق کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایسا دعویٰ کرے۔زندگی سے مراد اگر انسانی زندگی لی جائے تو وہ عقل کے ساتھ عمل کرنے کی طاقت ہے۔دنیا کا کون بادشاہ یا کن بادشاہتوں کا مجموعہ ہے جو جنون کو عقل میں تبدیل کر دے۔اگر زندگی قوت عاملہ عاقلہ کا نام ہے تو دنیا کی کوئی بادشاہت کسی کو قوت عاملہ عاقلہ نہیں بخش سکتی۔زندگی جب ختم ہو جاتی ہے تو یہ قوت عاملہ عاقلہ کی نفی ہے۔زندگی روحانی ہو یا جسمانی سوائے اللہ کے نہ کوئی دے سکتا ہے نہ بطور حق کے کوئی لے سکتا ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ کسی کو کسی نے قتل کر دیا ؟ مارنے کا تو خدا تعالیٰ نے ایک اصول بنایا تھا اس کے مطابق اس نے قتل کیا۔ہر وہ چیز جس سے انسان کی قوتِ عاملہ عاقلہ سلب ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔اگر اس کو چھوڑ دو تو تم کوئی ایسی چیز نہیں بنا سکتے کہ قوت عاملہ عاقلہ کو سب کر لوپس جو نا جائز قتل ہے وہ بھی قوت عاملہ عاقلہ کے سلب کا وہ طریقہ ہے جو خدا تعالیٰ نے بنایا ہے۔بہر حال جہاں تک زندگی کا سوال ہے یہ چیز واضح