خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 327 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 327

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۲۷ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۳ء بعثت سے لے کر قیامت تک ایک بالغ انسانیت کی تربیت کے سامان مہیا کرنے تھے اور نوع انسانی نے ارتقائی مدارج ہی سے گذرتے ہوئے اپنے لئے ایک سے ایک نئے مسائل پیدا کر لینے تھے اور اس صورت میں ہر زمانے اور ہر علاقے کے انسان کو رب العلمین کی مدد کی ضرورت پڑنی تھی کیونکہ یہ کتاب رب العلمین کی طرف سے نازل ہوئی ہے اس لئے اس کا ایک حصہ کتاب مکنون بنایا گیا ہے جس کا ظہور ہر زمانے کی ضرورت پر منحصر اور ہر وقت ربوبیت اور مطالب در بوبیت کی صورت میں مقدر ہے۔یا د رکھنا چاہیے کہ ربوبیت ایک فطری مطالبہ ہے جو ہر انسان اپنے رب کریم کے حضور التجا کے رنگ میں کرتا ہے۔وہ کہتا ہے اے میرے خدا! میری فلاں مشکل میں میری رہنمائی کے سامان پیدا کر۔چنانچہ یہ خدا کا قانون اور اس کا منشا ہے کہ ہر فطری مطالبہ ربوبیت کے وقت خدا کا کوئی نہ کوئی بندہ کھڑا ہو جسے زمانہ کی ضرورت کے مطابق خدا تعالیٰ اجمالاً یا تفصیلاً یا اجمالاً اور تفصیلاً ہر دولحاظ سے قرآنِ کریم کے رموز و اسرار سکھائے اور اس طرح خدا دنیا پر یہ ثابت کرے کہ یہ قرآن کریم ہے جو رب العلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے یعنی یہ اُس خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے جس نے آنے والے چودہ سو سال (بعثت نبوی سے لے کر آج تک ) کے زمانے یا دو ہزار سال بعد میں آنے والے زمانہ کی ضرورتوں کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ قیامت تک کے لوگوں کی ربوبیت کے سامان بھی اس عظیم شریعت میں چھپا کے رکھے ہوئے ہیں جن کے بتانے کی پہلے ضرورت نہیں تھی اور جن سے بوقت ضرورت پردہ اُٹھایا جانا تھا۔پس ایک علم قرآنی وہ ہے جو ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے پیارے بندوں سے ہم حاصل کر کے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں تا کہ دنیا کے مسائل آسانی کے ساتھ حل ہوسکیں۔اگر قرآن کریم کی یہ شان ہے اور یقیناً قرآن کریم ہی کی یہ شان ہے تو پھر کسی ایسے شخص کو قرآن کریم کی تفسیر یا اس کے ترجمہ کی اجارہ داری نہیں دی جا سکتی جو علمائے ظاہر میں شامل ہے یا لَا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کی رو سے مطہرین کی صف میں شامل نہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو عقل اور فراست عطا فرمائے اور قرآنِ کریم کے علوم سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے اور بنی نوع انسان کو زیادہ سے زیادہ