خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 324 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 324

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۲۴ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۳ء کی اتنی شان اور اتنا رعب ہے کہ اس کے سامنے عیسائیت اور دہریت ٹھہر ہی نہیں سکتی۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا یورپین لوگ بڑے آزاد ہیں۔وہ بڑے بڑے لوگوں سے حتی کہ صدر نکسن بھی آجائے تو اُن سے دبنے والے نہیں۔وہ اُن سے بھی بڑی آزادی کے ساتھ سوال کرتے ہیں لیکن پہلے ۶۷ء میں اور اب میرے حالیہ دورہ میں جہاں کہیں بھی پریس کا نفرنس ہوئی اور اس میں جب اسلامی تعلیم کے بنیادی اور حسین پہلوان کے سامنے رکھے گئے تو صرف ہاں میں سر ہلانے کے اور کوئی حرکت اُن میں ظاہر نہیں ہوئی۔الحمد للہ علی ذالک پس لینے کے لئے تو وہ تیار ہیں مگر دینے کے لئے ہم تیار نہیں۔یہ مسلمانوں کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے؟ میں نے آج کے خطبہ کے لئے دو باتیں منتخب کی تھیں لیکن پچھلے جمعہ کو خطبہ دیتے ہوئے میں بعض نہایت اہم امور کی تفصیل میں لمبا خطبہ دے گیا جس کی وجہ سے مجھے دو دن تک بہت ضعف رہا۔اس لئے اس وقت میں ایک بات ہی کہنے پر اکتفا کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے زندگی بخشی تو عید کے بعد انشاء اللہ دوسری بات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالوں گا۔تا ہم اس وقت میں اس کے متعلق بھی اصولاً کچھ بتا دیتا ہوں کیونکہ کچھ افواہیں کانوں میں پڑ رہی ہیں لیکن قبل اس کے کہ وہ واضح ہو کر سامنے آئیں کچھ نہ کچھ میری طرف سے بیان ہو جانا چاہیے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خیر امت کی رو سے اُمت مسلمہ کے سب سے افضل ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ مسلمان خود قرآن عظیم کو سکھنے اور نوع انسانی کو سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کے متعلق چند اصولی باتیں ( جن کو انگریزی میں آؤٹ لائنز (Out Lines) کہتے ہیں ) بتا دیتا ہوں تا کہ وہ ریکارڈ ہو جائیں۔پس یادر ہے کہ قرآنِ کریم کو دو طرح سے سیکھا جاتا ہے اور یہ اس لئے کہ خود قرآنِ کریم نے اپنی دو بنیادی حقیقتیں بیان کی ہیں۔ایک یہ کہ قرآن کہتا ہے میں کتاب مبین ہوں ، ایک کھلی ہوئی کتاب ہوں۔تم اس کے ورق کھولو۔اس کے بعض مضامین کے متعلق پہلے بزرگوں کی تفاصیل موجود ہیں۔احادیث کی کتب کھولو ان میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات موجود ہیں جو قرآنِ کریم کی