خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 298 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 298

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۹۸ خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء یعنی جماعت دنیا میں پھیل گئی اور اسے بڑی وسعت حاصل ہو گئی۔اس حقیقت زندگی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غرض بعثت یہ تھی کہ اس کرہ ارض پر بسنے والی تمام نوع انسانی کو اکٹھا کر کے حضرت محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر دیا جائے۔گویا آج کی زندگی کی یہ ایک دوسری حقیقت ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہم فاصلے کے بعد کو ایسی شکل اختیار نہ کرنے دیں کہ تمام دنیا کو امت واحدہ بنانے کا ہمارا جو مقصد ہے اس میں کوئی روک یاستی پیدا ہو جائے یعنی جماعت ہائے احمد یہ جو مختلف ممالک میں بسنے والی ہیں ان کو قریب سے قریب تر لانے کے لئے ایک جد و جہد جاری رہنی چاہیے۔یہ بڑی ضروری بات ہے ورنہ اندیشہ ہے کہ خدانخواستہ اسی طرح نہ ہو جس طرح پہلے ہوا۔جب مسلمانوں کا آپس کا تعلق ٹوٹ گیا، ایک دوسرے سے قطع تعلق ہو گیا اور مسلمان علیحدہ علیحدہ ٹکڑیوں میں بٹ گئے تو اسلام کی وہ شان و شوکت نہ رہی جو اسے قرونِ اولیٰ میں حاصل ہوئی تھی۔اب پھر اللہ تعالیٰ کا منشا ہے کہ اسلام کو بہت بڑے پیمانے پر آخری فتح نصیب ہو۔گویا غلبہ اسلام کے لئے ایک جنگ جاری ہے جنگ کے شروع میں فتح نہیں ہوا کرتی جنگ کے آخر میں فتح ہوا کرتی ہے۔یہ روحانی جنگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں شروع ہوئی۔پھر خلفائے راشدین کی زندگی میں فتوحات ہوئیں اور پھر ان کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ اسلام عرب و عجم میں دُور دُور تک پھیل گیا۔ایک طرف یورپ تک جا پہنچا دوسری طرف ترکی اور اس سے آگے یورپ کے دوسرے حصے پولینڈ تک پھیل گیا۔روس میں ایک وقت میں بارہ خوانین ( پٹھانوں ) کے خاندان ریاستوں کی شکل میں خود ماسکو کے ارد گرد کے علاقوں میں حکومت کر رہے تھے پھر چین میں مسلمان گئے لیکن وہاں اتنی زیادہ وسعت اختیار نہ کر سکے۔تاہم ایک بڑے پیمانے پر سارے نوع انسان کو اکٹھے کرنے کی مہم جاری ہوگئی۔مگر اب اس سے بھی بڑے پیمانے پر اسلام کو فتوحات حاصل ہونے والی ہیں کیونکہ شیطانی طاقتوں سے اسلام کی یہ آخری اور ( کامیاب ) جنگ ہے کیونکہ اس وقت امریکہ کا کسی کو پتہ نہیں تھا۔آسٹریلیا کا کسی کو پتہ نہیں تھا نیوزی لینڈ کا کسی کو پتہ نہیں تھا