خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 299
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۹۹ خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء انڈونیشیا کے تعلقات باقی دنیا سے بہت تھوڑے تھے اسی طرح نجی ، آئی لینڈ اور فلپائن وغیرہ کے تعلقات دوسرے خطہ ہائے ارضی سے نہیں تھے مگر اب دنیا کے ہر ملک کا دوسرے ملک سے تعلق قائم ہے اس لئے اب جہاں جہاں اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے پاؤں مضبوط کر رہا ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم میلوں کے فاصلوں کو ایک دوسرے سے بعد میں تبدیل نہ ہونے دیں اور ساری دنیا کے احمدیوں کو ( جو بھی اس وقت تک نوع انسان میں سے احمدی ہو سکے ہیں ان کو ) ایک دوسرے سے قریب تر لانے کی کوشش کریں۔چنانچہ اس دورے میں میرے دل میں یہ احساس بڑی شدت کے ساتھ پیدا ہوا۔اس بارہ میں میں نے بہت سوچا۔اس ضمن میں بہت سی باتیں تو ایسی ہیں جن کو جلسہ سالانہ سے پہلے بیان کرنا شاید مناسب نہ ہولیکن دو باتیں ایسی ہیں جن کو میں اس تمہید کے ساتھ تفصیلاً بیان کرنا چاہتا ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارا جلسہ سالانہ اور ہماری مشاورت اس قسم کے مواقع ہیں جن میں تمام دنیا کے احمدیوں کی شرکت ضروری ہو گئی ہے۔فی الحال میں جلسہ سالانہ کو لوں گا۔مجلس مشاورت میں ساری دنیا کے احمدی نمائندگان کی شرکت کے متعلق بعض باتیں ابھی مزید غور طلب ہیں ان پر غور کرنے کے بعد ہم انشاء اللہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے اور اس کی ہدایت کی روشنی میں کوئی منصوبہ بنائیں گے۔اس وقت تک جو بات ذہن میں ڈالی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جلسہ سالانہ کے متعلق کام شروع کر دینا چاہیے۔یہ صحیح ہے کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر شاید درجنوں کی تعداد میں یا اس سے کم بیرون جات کے احمدی جلسہ سالانہ میں شرکت کے لئے یہاں ہر سال آتے ہیں مگر وہ کسی منصوبہ کے ماتحت نہیں آتے۔اس لئے آج میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں بسنے والی تمام احمدی جماعتیں جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنی اپنی جماعت کی طرف سے وفود بھجوایا کریں جو جلسہ سالانہ میں شریک ہوں۔یہاں کی تصاویر لیں یہاں کے حالات دیکھیں ، جماعت احمد یہ پر خدا تعالیٰ کی جو بے شمار رحمتیں نازل ہو رہی ہیں ان کو دیکھیں ، ان کے متعلق سنیں اور ان کو نوٹ کریں اور پھر اپنے اپنے ملک میں جا کر ان کو بیان کریں۔یعنی اپنی اپنی جماعت کے احباب کو