خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 292
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۹۲ خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء کر سکتی ہے اس کو شروع ہی میں کچل دیا جائے۔چنانچہ آپ نے اپنے مضمون میں تمہیداً بتایا کہ کس طرح یہودیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہر قسم کے خبیثانہ اور ظالمانہ منصوبے بنائے۔آپ کو قتل کرنے اور صلح کے بہانے گھر پر بلا کر چنگی کا پاٹ کو ٹھے پر سے گرا کر مارنے کی سازشیں کیں وغیرہ۔پھر اس کے بعد آپ فرماتے ہیں :۔یہی دشمن ایک مقتدر حکومت کی صورت میں مدینہ کے پاس سراٹھانا چاہتا ہے شاید اس نیت سے کہ اپنے قدم مضبوط کر لینے کے بعد وہ مدینہ کی طرف بڑھے۔جو مسلمان یہ خیال کرتا ہے کہ اس بات کے امکانات بہت کمزور ہیں اس کا دماغ خود کمزور ہے۔عرب اس حقیقت کو سمجھتا ہے عرب جانتا ہے کہ اب یہودی عرب میں سے عربوں کو نکالنے کی فکر میں ہے اس لئے وہ اپنے جھگڑے اور اختلافات کو بھول کر متحدہ طور پر یہودیوں کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو گیا ہے مگر کیا عربوں میں یہ طاقت ہے؟ کیا یہ معاملہ صرف عرب سے تعلق رکھتا ہے؟ ظاہر ہے کہ نہ عربوں میں اس مقابلہ کی طاقت ہے اور نہ یہ معاملہ صرف عربوں سے تعلق رکھتا ہے۔سوال فلسطین کا نہیں ، سوال مدینہ کا ہے،سوال یروشلم کا نہیں سوال خود مکہ مکرمہ کا ہے۔سوال زید اور بکر کا نہیں سوال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا ہے۔دشمن باوجود اپنی مخالفتوں کے اسلام کے مقابل پر اکٹھا ہو گیا ہے، کیا مسلمان باوجود ہزاروں اتحاد کی وجوہات کے اِس موقع پر اکٹھا نہیں ہو گا ؟“ اسی مضمون کے تسلسل میں پھر آپ فرماتے ہیں :۔پس میں مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس نازک وقت کو سمجھیں اور یا درکھیں کہ آج رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان الكُفْرُ مِلَّةً وَاحِدَةٌ لفظ بلفظ پورا ہورہا ہے۔یہودی اور عیسائی اور دہر بیل کر اسلام کی شوکت کو مٹانے کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں۔پہلے فرداً فردایور بین اقوام مسلمانوں پر حملہ کرتی تھیں مگر اب مجموعی صورت میں ساری طاقتیں مل کر حملہ آور ہوئی ہیں۔آؤ ہم سب مل کر ان کا مقابلہ کریں کیونکہ اس معاملہ میں ہم