خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 11
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۱۹ / جنوری ۱۹۷۳ء دنیا کی کسی سلطنت کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ کسی کو مومن یا کافر کہے خطبه جمعه فرموده ۱۹ جنوری ۱۹۷۳ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیت تلاوت فرمائی:۔اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِى حَاجَ إِبْرَهِم فِي رَبَّةٍ أَنْ اللهُ اللهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِمُ رَبِّيَ ط الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أخي وَأَمِيتُ قَالَ إِبْرَاهِمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِى كَفَرَ وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ - (البقرة : ۲۵۹) اس کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرما یا کہ کیا تمہیں معلوم ہوا کہ جس شخص کو ہم نے بادشاہت اور سلطنت عطا کی تھی اور جسے ہماری طرف سے سیاسی اقتدار ملا تھا۔اس نے ہمارے ہی (یعنی اپنے ربّ کے بارے میں ابراہیم سے بحث شروع کر دی اس شخص نے جس موضوع پر بحث کی اس کی طرف صفت ربوبیت یعنی رب کا لفظ اشارہ کر رہا ہے۔اس نے کہا کہ موت وحیات اور جسمانی اور روحانی اجالے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا نہیں کئے گئے بلکہ ہم کو جو بادشاہ ہیں ربّ