خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 284 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 284

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۸۴ خطبه جمعه ۱٫۵ کتوبر ۱۹۷۳ء وصول نہیں کی جائے گی۔ہم وصولی کے کھاتے بند کر دیں گے۔باقی رہیں وہ برکتیں جو اللہ تعالیٰ نے اس سکیم سے وابستہ فرمائی ہیں وہ تو انشاء اللہ بڑھتی چلی جائیں گی۔اللہ تعالیٰ بڑی برکتیں دینے والا اور بڑی رحمت اور پیار کا سلوک کرنے والا ہے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے کہ ہم نے مغربی افریقہ میں جو ڈا کٹر بھیجے تھے جن میں سے بعض بڑے پرانے اور تجربہ کار ڈاکٹر تھے اور چھٹیاں لے کر وہاں گئے ہوئے ہیں کام چلانے کے لئے ہم نے ان کو ۵۰۰ پاؤنڈ کی رقم دی تھی ( بیرون پاکستان کی مالی قربانیوں میں سے ) اور اس کے بعد انہوں نے وہاں سے جو پیسے کمائے وہ بھی وہیں خرچ کر دیئے کیونکہ ہم میں سے کسی فرد کو ذاتی طور پر مال سے دلچسپی نہیں ہے۔جہاں خدا کی راہ میں مال خرچ ہونا چاہیے وہاں خرچ ہوتا ہے۔افریقی ممالک کے متعلق اس وقت یہی ہو رہا ہے۔ہماری ریت اور روایت یہی ہے کہ جو کچھ ہم اللہ کے فضل سے کسی ملک میں کماتے ہیں وہ اسی ملک پر خرچ کر دیتے ہیں اور جو ہم اس ملک میں نہیں کماتے ( کمانا اس معنی میں نہیں جس معنی میں مزدور کماتا ہے بلکہ اس معنی میں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جو کچھ دیتا ہے ) دوسرے ملک میں ہمیں حاصل ہوتا ہے، وہ بھی ہم ان ملکوں میں حسب ضرورت بھجوا دیتے ہیں۔مثلاً یہ ۵۰۰ پاؤنڈ فی ڈاکٹر جو رقم دی گئی تھی وہ بھی ہم نے باہر سے بھجوائی تھی۔اب مثلاً غانا کو لے لیں۔غانا میں اس تھوڑے سے عرصہ میں جو قریباً دو سوا دو سال کا عرصہ یا زیادہ سے زیادہ اڑھائی سال کا ہوگا اس میں ہسپتالوں کی دو ۲ نہایت شاندار عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں اور فی عمارت قریباً دس دس لاکھ روپیہ خرچ ہوا ہے۔اس میں وہ خرچ شامل ہے جو مستقبل قریب میں ہونے والے ہیں۔جو اس وقت تک خرچ ہو چکا ہے وہ تو کوئی پانچ چھ لاکھ روپے کا ہے لیکن ابھی بہت سے سامان وہاں جانے والے ہیں اور اس طرح خرچ دس لاکھ روپے تک پہنچ جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اپنی ہی قائم کردہ جماعت کو توفیق دی ہے کہ وہ اس کی راہ میں خرچ کرے۔جن ڈاکٹروں کو ہم نے ۵۰۰ پاؤنڈ دے کر وہاں بھیجا تھا ان ڈاکٹروں کے ہسپتالوں کی عمارتوں پر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ۵۰۰ پاؤنڈ کے مقابلہ میں ۳۵ ہزار پاؤنڈ خرچ ہو چکا ہے اور ابھی اور خرچ ہونے والا ہے گویا ایک اور ۵۰ کی نسبت سے تو ہم خرچ کر چکے ہیں