خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 272
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۷۲ خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۷۳ء نہیں ہوتے الا ماشاء اللہ۔کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے محلوں کے ساتھ چھ چھ سوا یکڑ کے باغات ہیں۔لیکن میں عام طور لندن کی بات کر رہا ہوں۔جہاں غلیل نہیں چل سکتی۔چنانچہ میں نے ان کو یہ بھی سمجھایا کہ یہاں غلیل رکھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمسایہ کے بچے کے سر پر غلولہ جا لگے۔لیکن میں حکم دوں گا کہ غلیل رکھو۔لیکن اس کی مصلحت نہیں بتاؤں گا۔بلکہ یہ میری خواہش ہے۔کہ ہر ناصرہ اور ہر خادم اور ہر طفل اپنے پاس غلیل رکھے اور پلاسٹک کی چھوٹی سی تھیلی میں چھ غلولے بھی موجود ہیں۔یہ مثال میں نے اس لئے دی ہے کہ میں آپ سے بھی یہ کہتا ہوں۔جیسا کہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ یہاں بھی ہمارا ہر خادم، ناصرات کہ ہر ممبر اور ہر طفل ایک غلیل اور چھ غلو لے اپنے پاس رکھے۔اچھے غلولے یہی ہوتے ہیں جو مٹی سے بنائے جاتے ہیں کیونکہ اگر اس میں پتھر کا ٹکڑا رکھا جائے تو اس میں حادثہ کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔اس لئے بچوں کو تربیت بھی دی جائے کہ اس کا صحیح استعمال کرنا ہے۔وہاں میں نے بتایا تھا کہ دیکھور بوہ میں بعض ایسے بچے ہیں۔کہ جور بڑ کی غلیل سے بیس ہیں فاختہ شکار کر لاتے ہیں اور ان کے خاندان کو نہایت صحت مند گوشت مل جاتا ہے۔مگر تمہیں نہیں ملے گا کیونکہ تمہارا معاشرہ اور قسم کا ہے۔لیکن امام کہتا ہے کہ اپنے پاس غلیل رکھو اس لئے تم اپنے پاس غلیل رکھو۔آپ کو بھی جب میں یہ کہتا ہوں کہ غلیل رکھو تو رکھیں۔اُن کے متعلق تو مجھے رپورٹ مل جائے گی وہ ضرور لے لیں گے کیونکہ وہاں سہولت سے غلیل مل جاتی ہے۔اُن کے لحاظ سے اس کی زیادہ قیمت بھی نہیں ہوتی۔۴۵ پنس کی ایک بڑی اچھی ربڑ کی غلیل مل جاتی ہے جس کا فریم لوہے کا بنا ہوتا ہے اور وہ بڑی قابل اعتبار بھی ہوتی ہے۔میں نے اُن کے ایک دو نمونے لے کر اپنے دو ساتھیوں کو جو خدام الاحمدیہ کے نمائندے تھے اور میرے ساتھ قاصد بن کر گئے تھے ان کو دے دیئے تھے کہ وہ اپنے پاس رکھیں۔ابتدا وہیں سے کی تھی۔میں اس وقت یہ بتارہا ہوں کہ مصلحت بتانا ضروری نہیں ہوتا۔لیکن امام کے پیچھے امام کی ڈھال کے پیچھے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ اور اسلام کی جنگیں لڑنا ضروری ہے۔یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ مصلحت نہیں بتائی گئی۔اس لئے ہم ڈھال سے پرے چلے جاتے ہیں۔اس طرح تم اپنا نقصان کرو گے اس طرح اسلام کی جنگ نہیں لڑی جاسکتی۔ہرگز نہیں لڑی جاسکتی۔امت محمدیہ پر