خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 273 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 273

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۷۳ خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۷۳ء ایک ایسا زمانہ بھی گذرا ہے جب اُمت کو ہر جگہ یہ ڈھال میسر نہ تھی یا چھوٹی چھوٹی ڈھالیں تھیں مگر امت محمدیہ بحیثیت اُمّت اس ڈھال کے پیچھے نہیں لڑ سکتی تھی وہ تو ایک جگہ جمع ہی نہیں ہو سکتی تھی کیا اس وقت مسلمان نے کوئی ترقی کی؟ اس زمانہ کو مسلم اور غیر مسلم مؤرخین تنزل کا زمانہ کہتے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے مگر اس کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس فیج اعوج کے زمانہ میں خدا کے مقربین بندے لاکھوں کی تعداد میں پیدا ہوئے جنہوں نے اسلام کی شمع کو روشن رکھا۔لیکن اسلام کی شمع ایک اور چیز ہے اور اسلام کا چاند ایک اور چیز ہے اور اسلام کا سورج تو اسلام کا سورج ہے صلی اللہ علیہ وسلم لیکن سورج کے ہوتے ہوئے بھی کرہ ارض پر رات آ جاتی ہے اور سورج غروب ہو جاتا ہے اسی طرح روحانی سورج کا حال ہے۔جب دنیا روحانی طور پر پرے ہٹ گئی اور اس کی روشنی سے خود کو محروم کر لیا تو یہ گویا تاریکی کا زمانہ تھا۔مگر اب پھر یہ چاند کی روشنی آگئی ہے اس کا عکس لے کر اس کا نور لے کر پیار کے ساتھ دنیا میں اسلام پھیلانا ہے۔چاند کا اپنا کوئی نور نہیں ہے مہدی معہود کا اپنا کوئی نور نہیں ہے۔لیکن مہدی معہود کا انکا ر اس وجہ سے کہ اس کا اپنا کوئی نور نہیں ہے۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا سب نو ر ہے غلط ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہی نہیں فرمایا کہ اس کی بیعت کر کے اپنی گردن اس کے جوئے کے نیچے لاؤ بلکہ ساتھ ہی یہ ارشاد بھی فرمایا ہے کہ پیار اور بشاشت کے ساتھ اس کی اطاعت کرو۔اور یہ اسی کا ارشاد ہے جس نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میرا اسلام اس کو پہنچا دو۔چنانچہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ محبت بھرا سلام مہدی معہود کو اس وقت جب آپ دنیا میں موجود تھے یا اب اپنی دعاؤں کے ذریعہ نہایت بشاشت سے پہنچا رہا ہے اور خوشی سے پہنچا رہا ہے اس کے دل میں تو اللہ تعالیٰ اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محبت کو جوش میں لا کر یہ کام اس سے لینا ہے۔بہر حال اسلام پر ایک زمانہ آیا جب یہ ڈھالیں اتنی چھوٹی ہو گئیں کہ امت محمدیہ اُن کے پیچھے سماہی نہیں سکتی تھی۔پھر مہدی معہود کا زمانہ آ گیا، پھر اب یہ ڈھال بڑی ہوگئی اور امت محمدیہ نے پھر اپنے پورے عروج کو (جیسا کہ وہ نشاۃ اولی میں پہنچی تھی ) پہنچنا ہے۔چنانچہ میں نے یورپ