خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 252
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۵۲ خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۷۳ء ہم مبائعین ہیں۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کو پرکھا۔ہم ایمان بالغیب بھی لائے لیکن آپ کی بتائی ہوئی چیزیں اپنے اپنے وقت پر پوری ہوئیں اور ہم یقین کامل کے ساتھ بغیر کسی شک وشبہ کے اس نتیجے پر پہنچے کہ جو باتیں ابھی پوری نہیں ہوئیں وہ اپنے وقت پر ضرور پوری ہوں گی کیونکہ ان پیشگوئیوں کا منبع اور سر چشمہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔اس وقت میں جماعت کے سامنے یہ چیز رکھ رہا ہوں کہ جو چیزیں پہلے نظر نہیں آتی تھیں اب وہ نظر آنے لگ گئی ہیں۔ہمیں یہ بھی نظر آنے لگ گیا کہ دنیا میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لئے ایک زبر دست دوڑ جاری ہے اور ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ اس دوڑ میں وہ دنیا جو اسلام کی حقیقت نہیں پہچانتی وہ نہ تو نیک وسائل سے کام لے رہی ہے اور نہ ہی نیک نتائج پیدا کر رہی ہے بلکہ استحصال اور ظلم کی مرتکب ہو رہی ہے۔جو قو میں اٹامک بم بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کی عطا کے سمندر کا ایک قطرہ ہے جوان کو ملا ہے۔اگر ایک قطرہ پالینے کے بعد وہ سمجھنے لگیں کہ یہ قوم ہماری منشا کے مطابق اپنی سیاست کو نہیں ڈھالتی اس کو ہم آنکھیں دکھا ئیں گے اور اپنی بات منوائیں گے تو کیا یہ نتائج خیر اور بھلائی کے ہوں گے؟ پس ایک قطرہ پالینے کے بعد دروازے بند نہیں ہوئے بلکہ سارا سمندر ہمارا انتظار کر رہا ہے ہمیں چاہیے کہ آگے بڑھیں اور اپنی کوششوں کے نیک نتیجے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ہماری ابتدا ہلکی چال سے ہوئی۔پھر اس میں وسعت پیدا ہونی شروع ہوئی۔اب اس میں تیزی پیدا ہو رہی ہے۔ہماری تحریک نے بڑا Momentum حاصل کیا ہے مثلاً ۷۳ سالہ جد و جہد اور کوشش کے نتیجے میں جماعت مالی قربانی میں (اگر چہ اور بھی بہت سے پہلو ہیں ) جس مقام تک ۱۹۶۵ء میں پہنچی تھی گزشتہ سات سال میں میرے زمانہ خلافت میں ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ترقی ۲ گنا بڑھ گئی ہے گویا جہاں سے سالہ کوشش پہنچی تھی سات سال میں اس سے ۲ گنا زیادہ ہوگئی ہے۔یہ صرف مالی قربانی کی مثال میں دے رہا ہوں اس کے علاوہ اور بھی کئی ایک پہلو ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اسلام کے غلبے کے لئے ایک قسم کا سیلاب آیا ہوا ہو۔ہم دیکھ