خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 253
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۵۳ خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۷۳ء رہے ہیں اور نو جوان نسل کو دیکھنا چاہیے کہ کیا تھا اور کیا ہورہا ہے۔نیک نتائج کے لئے نیک ذرائع کو اختیار کر کے بنی نوع انسان کی بھلائی کی خاطر نہ صرف انگلستان، امریکہ، روس، چین، جاپان بلکہ تمام دنیا کی مجموعی کوششوں کے مقابلے پر اس جدوجہد میں آگے نکلنا ہے۔یہی خدا کا منشا ہے اور یہی مطالبہ ہے جو جماعت احمدیہ سے کیا جا رہا ہے۔زندگی کے ہر میدان میں ہم نے دنیا کے مقابل پر آنا ہے اس سے ڈرنا نہیں اور دعاؤں کے ذریعہ نیکی اور بھلائی کے وسائل کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جذب کرنا ہے۔میں پورے زور سے آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس جدو جہد اور مسابقت کی دوڑ میں آپ نے ان سے آگے بھی نکلنا ہے اور دنیا کے لئے ایک مثال بھی قائم کرنی ہے اگر آپ آگے نکل جائیں تو دنیا کا ایک حصہ آپ کی تعریف تو کرے گا لیکن آپ کے نقش قدم پر نہیں چلے گا لیکن جب یہ مسابقت اور جد و جہد ایک حسین شکل اختیار کرے گی تب دنیا آپ کی طرف متوجہ ہوگی کیونکہ حُسن میں ایک کشش ہے۔اس طرح دنیا اس تباہی سے بچ جائے گی جس تباہی کے سامان اپنی غفلتوں اور جہالتوں کی وجہ سے وہ پیدا کر رہی ہے دنیا آپ کے پیار کو دیکھ کر اس پیار کو حاصل کرے گی جس پیار کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔آج دنیا کو تباہی اور ہلاکت سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے منشا کے مطابق آپ کے سوا اور کوئی آلہ کار نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ نے اس لئے مبعوث کیا ہے کہ آپ کے ذریعے اسلام غالب ہو۔اسلام کوئی تلوار آ تو نہیں۔اسلام کے غلبے کا مطلب یہ ہے کہ انسان بحیثیت انسان مجموعی طور پر اللہ تعالیٰ کے پیار اور رضا کو حاصل کرنے والا ہو۔خدا ایسا کرے کہ ہم اس حقیقت کو سمجھیں اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کریں۔روزنامه الفضل ربوه ۲۸ را گست ۱۹۷۳ء صفحه ۳، ۴) 谢谢谢