خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 248
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۴۸ خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۷۳ء ،افریقہ، امریکہ، انگلستان اور دیگر ممالک میں مومینٹم گین (Momentum Gain) پچھلے سات سال میں جس تیزی کے ساتھ جماعت احمدیہ کی قربانیوں میں برکت پیدا ہوئی۔نتائج میں نہیں کہہ رہا۔میری خلافت کو ابھی سات سال ہوئے ہیں ان سات سال میں ہمارا بجٹ ہی لے لیں، مالی قربانیوں میں جماعت احمدیہ پچھلے ۷۲ سالہ قربانیوں سے جس مقام پر پہنچی تھی اس سے اڑھائی گنا زیادہ بڑھ گئی۔اللہ تعالیٰ نے رعب ایسا دیا ہے جو جانتے ہیں ان کے دلوں میں بھی رعب پیدا ہوتا ہے اور جو نہیں جانتے ان کے دلوں میں بھی رعب پیدا ہو جاتا ہے خواہ یہ بڑے بڑے دنیا دار ہوں اگر چہ ہمیں اس سے کیا تعلق جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جُدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوانِ یار جن کو پیار ہے اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں احمدیت کے سامنے جھکا دیتا ہے۔خدا تعالیٰ کا اتنا فضل ہے کہ آپ کی جھولیاں اس فضل کو سمیٹ نہیں سکتیں۔کیا پھر بھی آپ خدا تعالیٰ کے ناشکرے بندے بن کر اس کے فضلوں کو دھتکار دیں گے؟ دیکھا کریں اور تلاش کیا کریں کہ کہاں کہاں ہم سے قربانی کا مطالبہ ہے ہم وہ قربانی دے سکتے ہیں یا نہیں؟ پس قربانیاں دیتے چلے جاؤ اور خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کرتے چلے جاؤ۔خدا تعالیٰ کے فضلوں کو دنیاوی لحاظ سے آپ کے آبانے جو حاصل کیا آپ نے اس سے زیادہ حاصل کیا۔دنیوی لحاظ سے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا جتنا بوجھ آپ لوگوں پر ہے وہ آپ کے آبا سے کہیں بڑھ کر ہے۔خدا تعالیٰ کی رحمت کے نشانوں کو دیکھیں اور اس پختہ عزم اور یقین کے ساتھ کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔نا کام ہونے کے لئے ہم پیدا نہیں ہوئے۔کامیاب ہونے کے لئے جو ہمیں کرنا چاہیے اسے ضرور کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔روزنامه الفضل ربوه ۲۲ را گست ۱۹۷۳ء صفحه ۶،۲)