خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 6 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 6

خطبات ناصر جلد پنجم ۶ خطبہ جمعہ ۵ /جنوری ۱۹۷۳ء ہمارے لئے ظاہری علامت قائم کی گئی ہے یعنی بہشتی مقبرہ اس میں دفن ہونے سے وہ محروم ہو گیا۔بعض دفعہ ایک موصی فوت ہو جاتا ہے تو اس کے بچے وصیت کا پیسہ نہیں دیتے۔اب جہاں تک وصیت کے چندہ کا تعلق ہے یہ ایک ظاہری چیز ہے اس کی دو شکلیں بن جاتی ہیں باپ بہشتی مقبرہ میں دفن ہو جاتا ہے اور بیٹوں نے حصہ وصیت نہیں دیا ہوتا۔اس واسطے کہ وصیت کے پیسے تو کوئی چیز نہیں۔اس کے بغیر خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ وہ بہشتی مقبرہ میں دفن ہو جاتا ہے لیکن بعض دفعہ متوفی کی اولاد پیسے نہیں دیتی اور وہ بہشتی مقبرہ میں دفن نہیں ہوسکتا۔اب ایک ہی فعل ہے جو دو مختلف خاندانوں کی اولاد سے سرزد ہوا۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس سے دومختلف نتیجے کیوں نکلے بظاہر اس کا ایک ہی نتیجہ نکلنا چاہیے تھا ؟ میں ایسے موقع پر یہ نتیجہ اخذ کیا کرتا ہوں کہ ایک شخص جس نے وصیت کی تھی مگر اس کا حصہ وصیت ادا نہ ہو سکا۔اس کے باوجود چونکہ وہ خدا کا پیارا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا میں اس کی اولا د کو تو پکڑوں گا مگر اس نے میری راہ میں اخلاص کے ساتھ اور ایثار کے ساتھ قربانیاں دی ہیں اس کو میں اپنی جنت میں داخل کروں گا لیکن ایک دوسرا آدمی ہے جو دنیا کی نگاہ میں خواہ کچھ ہو لیکن خدا تعالیٰ کی نگاہ میں یہ تھا کہ اس کو بہشتی مقبرہ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا چنانچہ اس کی اولا داس کے بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے سے محرومی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔پس ہر موصی پر انفرادی حیثیت میں بھی اور جماعت موصیان پر اجتماعی رنگ میں بھی ایک بہت بڑی ذمہ داری شکر گزار بندہ بننے کی بھی عائد ہوتی ہے۔اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کریں گے تو ان کی زندگی ناکام ہوگی۔وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے جس مقصد کے لئے انہوں نے وصیت کی اور بظاہر ایک حد تک دوسروں سے زیادہ قربانیاں بھی دیں۔ہماری جماعت میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو وصیت کی عظیم ذمہ داریوں کی وجہ سے وصیت تو نہیں کرتے لیکن یوں بڑی قربانی دے رہے ہوتے ہیں خود میرے علم میں بعض ایسے دوست ہیں جن کی کسر نفسی کا یہ حال ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم جب اپنی زندگی پر غور کرتے ہیں تو ہم اپنے آپ کو اس قابل نہیں