خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 7 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 7

خطبات ناصر جلد پنجم ۷ خطبہ جمعہ ۵ /جنوری ۱۹۷۳ء پاتے کہ ہم بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے والی جماعت میں شامل ہوں چنا نچہ اللہ تعالیٰ ان کو شامل کر دیتا ہے۔ایسی بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسے لوگوں کی گنجائش رکھی ہے کہ اگر چہ ان کی وصیت تو نہیں ہوتی لیکن بعد میں کیسی یہ بن جاتا ہے کہ بڑا مخلص اور فدائی احمدی تھا۔اس کی وصیت ۱۰ ر ا حصہ کی تو نہیں تھی لیکن وہ اپنے مال کا ۱٫۵ حصّہ خدا کی راہ میں قربان کر رہا تھا یعنی ایسے لوگوں کی مال کی محبت وصیت کے راستے میں روک نہیں تھی وہ ۱۰ را دے کر وصیت کر سکتے تھے۔پس اگر چہ انہوں نے وصیت نہیں کرائی تھی لیکن جہاں تک مالی قربانی کا تعلق ہے وہ عملاً ۱/۵ خدا کی راہ میں دے رہے تھے چنانچہ کئی دوستوں کا مجھے ذاتی طور پر علم ہے جو کہتے تھے کہ ہم کیا ہیں۔جب اپنے نفس پر غور کرتے ہیں تو اپنے آپ کو کچھ بھی نہیں پاتے۔یہ اُن کا اپنا ذہن ہے مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کو ہم صحیح سمجھ لیں لیکن یہ ہے بڑی پیاری منکسرالمز اجی چنانچہ خدا تعالیٰ ایسا سامان پیدا کر دیتا ہے کہ ان کی وفات کے بعد خلیفہ وقت فیصلہ کرتا ہے کہ ان کو بہشتی مقبرہ میں دفن کر دیا جائے کیونکہ ان کی ساری زندگی ایسی ہوتی ہے کہ وہ خدا کی راہ میں بڑا اخلاص دکھانے والے اور بڑی قربانی کرنے والے تھے اس کے برعکس بعض لوگ اتنے مخلص نہیں ہوتے جتنا ایک موصی کو ہونا چاہیے۔اس لئے انہوں نے وصیت تو کی ہوتی ہے لیکن وفات کے بعد بہشتی مقبرہ میں دفن نہیں ہو سکتے۔پس بہشتی مقبرہ کوئی فارمل چیز نہیں ہے جب ہم وصیت کے سارے حالات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو یہاں بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کام کرتی ہوئی نظر آتی ہے گو ایک موصی کے ساتھ اللہ تعالیٰ بڑا پیارا اور حسین سلوک کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ان پر شکر گزار بندہ بنے کی ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔اس لئے ان کو دوسروں کی نسبت خدا تعالیٰ کا زیادہ شکر گزار بندہ بننا چاہیے۔ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے لئے شکر اور حمد کا مقام دوسروں کی نسبت بہت بڑا اور بلند ہونا چاہیے۔غرض موصیان کی زندگی کا جو اجتماعی پہلو ہے اس کے متعلق مجھے تسلی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے