خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 232 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 232

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۳۲ خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء گیا۔مجھے اس الہی پیار پر بہت لطف آیا۔میرے دل میں اللہ تعالیٰ کی حمد کے جذبات موجزن ہو گئے کہ اللہ تعالیٰ میرے جیسے عاجز انسان سے یہ پیار کرتا ہے کہ وہ کام جس کے لئے ہفتوں درکار تھے منٹوں میں ہو گیا۔پس یہ سوال نہیں ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔سوال یہ ہے کہ ہر گھر کے ہر انسان کے ہاتھ میں اس کی اپنی زبان میں ترجمہ شدہ قرآنِ کریم پہنچانا ہے۔یہ کام انشاء اللہ ہوکر رہے گا۔یہ بات تو سوچنی بھی نہیں اور یہ ہماری ذمہ داری بھی نہیں ہے کہ روپیہ کہاں سے آئے گا۔جس ہستی نے کہا ہے یہ کام ہو وہ اس کا انتظام بھی کرے گا۔ہماری ساری تو قعات اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات سے وابستہ ہیں۔اس نے اس ذمہ داری کو نباہنے کے لئے یہ نہیں کہا کہ ہر انسان مثلاً اگر دنیا میں ڈیڑھ ارب گھر ہو تو ڈیڑھ ارب گھر میں قرآنِ کریم پہنچانے کے لئے ( حمائل سائز قرآن کریم جو بڑا ستا نظر آتا ہے ) نو ارب روپے چاہئیں۔خدا تعالیٰ نے مجھ پر اور آپ پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی کہ ہم نو ارب رو پیدا کٹھا کریں۔خدا تعالیٰ نے مجھ پر اور آپ پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ جو کام تم کر سکتے ہو اس کو انتہا تک پہنچا دو۔جو شخص دو پیسے دینے کی استطاعت رکھتا ہے وہ اگر دھیلا دیتا ہے تو گنہگار ہے لیکن جو شخص دو پیسے دینے کی استطاعت رکھتا ہے اور دو پیسے دے دیتا ہے تو اس نے گویا اپنی کوشش اور تدبیر کو انتہا تک پہنچانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے انتہائی پیار کو حاصل کر لیا اور ایک دوسرا شخص جو خدا کی راہ میں ۲۰ ہزار روپے دے سکتا ہے۔اگر اس نے ۱۰ ہزار روپے دیئے تو اس نے گویا اپنی تدبیر کو انتہا تک نہ پہنچانے کی وجہ سے اس سے کم پیار حاصل کیا جس نے دو پیسے کے دو پیسے دے دیئے کیونکہ نہ دو پیسے دینے کا حکم ہے نہ ۲۰ ہزار روپے دینے کا حکم ہے اور نہ ۲۰ لاکھ دینے کا حکم ہے۔خدا تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق انتہائی قربانی کر جاؤ۔جواب طلبی خدا نے کرنی ہے میں نے یا آپ میں سے کسی نے نہیں کرنی اس لئے انسان کو سوچنا پڑے گا اور اپنے اندرونہ پر نگاہ ڈالنی پڑے گی کہ وہ اپنے نفس کو کہیں جھوٹی تسلی تو نہیں دے رہا کہ مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت نہیں تھی۔اس لئے قربانی نہیں دے سکتا تھا۔خدا تعالیٰ نے فیصلہ کرنا ہے کہ تمہارے اندر طاقت تھی یا نہیں۔تاہم یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔