خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 215 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 215

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۱۵ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۳ء اسی طرح سیرالیون اور نائیجیریا میں بھی بہت سے ہوٹلوں میں ہر ہوٹل کے کمروں کی تعداد کے مطابق انگریزی ترجمہ والا قرآن کریم رکھوا دیا گیا ہے۔اس کا ایک اثر تو ہوٹلوں کی انتظامیہ پر پڑا ہے دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ خود ہی سامان پیدا کر دیتا ہے۔جب تک ہوٹلوں کے مالکوں کو کوئی جماعت قرآن کریم پیش کرنے کے قابل نہیں تھی تو ان پر یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا تھا کہ تم بائیبل رکھتے ہو قرآنِ کریم کیوں نہیں رکھتے۔اگر کوئی یہ اعتراض کرتا تو وہ بڑے آرام سے کہہ دیا کرتے تھے کہ ہم بائیل اس لئے رکھتے ہیں کہ بائیبل سوسائٹیز ہمیں بائیبل رکھنے کے لئے دیتی ہیں تم قرآن کریم لاؤ ہم وہ بھی رکھ لیں گے۔ان کی یہ فراخ دلی جو اس وقت وہ دکھاتے تھے اب ہمارے کام آگئی چنانچہ اب کئی ہوٹل والے ایسے بھی ہوں گے جو دل میں کڑھتے ہوں گے کہ یہ کیا ہو گیا لیکن اب وہ قرآن کریم رکھنے پر مجبور ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے منہ سے فراخدلی کی باتیں نکلوا تارہا اب وہ انکار نہیں کر سکتے۔پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہوٹل تو سب کے لئے برابر ہیں وہ انکار کر بھی نہیں سکتے۔غرض ان میں سے بعض نے تو نیکی کا کام سمجھ کر قرآن کریم رکھ لئے اور ان پر بڑا خوشکن اثر بھی ہوا ہے اور بعض مجبور بھی ہوئے مگر انکار نہ کر سکے۔یہ باتیں اسی سال ۱۹۷۳ء سے تعلق رکھتی ہیں۔میں نے اس سے پہلے کے واقعات نہیں لئے اور نہ وہ کسی رسالے میں پاکستان میں چھپے ہیں اور نہ میں ان کی بات کر رہا ہوں یہ وہ چند واقعات ہیں جو پچھلے چند مہینوں میں رونما ہوئے ہیں۔بہت سے مسلمان جو ان ہوٹلوں کے کمروں میں ٹھہرے اور وہاں انہوں نے انگریزی ترجمہ قرآن کریم دیکھا تو انہوں نے بڑے تعریفی خطوط لکھے کہ آپ نے بڑا اچھا کیا ہوٹلوں کے کمروں میں قرآنِ کریم رکھوا دیئے لیکن یہ تو ہماری اس مہم کے ایک حصے کی ایک چھوٹی سی شاخ ہے یعنی اگر ہم ساری دنیا کے تمام ہوٹلوں کے ہر کمرہ میں قرآنِ کریم متر جم مختلف ملکوں میں ان کی اپنی زبانوں میں رکھنا چاہیں تب بھی ہمارا یہ کام ۱۰۰۰ را سے بھی کم ہوگا۔اس لئے کہ انسان کی مجموعی آبادی کے مقابلہ میں ہوٹلوں کے کمروں کی تعداد شاید ہزار میں ایک بھی نہ ہو حالانکہ ہم نے تو دنیا کے ہر انسان کے ہاتھ میں قرآنِ کریم پہنچانا ہے اس لئے یہ خیال پیدا ہوا کہ ابھی سے ہمیں