خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 188
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۸۸ خطبہ جمعہ ۲۵ رمئی ۱۹۷۳ء پس جو دعا بھی سکھائی گئی ہے اس کے متعلق یہ بشارت دی گئی ہے کہ امت محمدیہ کے افراد یا گروہ (اگر دعا کا تعلق جماعت یا گروہ سے ہو ) اگر دعا کریں گے خلوص نیت کے ساتھ اور اس کی شرائط کو پورا کریں گے اپنی استعداد کے مطابق تو وہ دعا ضرور قبول ہوگی۔چنانچہ اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اُمت محمدیہ کو یہ بشارت دی اور بتایا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ابنیاء علیہم السلام مختص المکان اور مختص الزمان تھے یعنی خاص علاقے کے لئے اور خاص زمانی کے لئے آتے تھے اور وہ اپنے اپنے علاقہ اور زمانہ کی محدود ضرورتیں پوری کرتے اور پیش آمدہ مسائل کو حل کرتے تھے۔چونکہ ان کی ذمہ داریاں کا حل نہیں تھیں یا یوں کہنا چاہیے کہ ابھی ان کی استعدادوں کی کامل نشو و نما نہیں ہوئی تھی یا یہ کہ وہ انسان کامل کا ظل بننے کے اہل نہیں تھے اس لئے ان کو ارتقائی مدارج ہی سے گزارنے کے لئے ان پر تھوڑی تھوڑی ذمہ داریاں ڈالی گئیں۔گویا جس قسم کی ذمہ داریاں تھیں اس قسم کا انہیں انعام بھی ملنا تھا۔پہلے زمانوں میں جس طرح بعض دفعہ ایک گاؤں میں ایک قسم کی بادشاہت ہوتی تھی۔ایک شہر میں بادشاہت ہوتی تھی۔اسی طرح ایک قصبہ یا شہر کا ایک نبی ہوتا تھا۔اس کے فرائض محدود تھے۔اس کی قربانیاں محدود تھیں کیونکہ مثلاً یروشلم میں یروشلم سے تعلق رکھنے والے نبی کو اس علاقہ کے لوگوں نے گالیاں دیں اور اس پر کفر کے فتوے لگائے مگر نا کیجیریا کے لوگوں نے اس پر کفر کے فتوے نہیں لگائے اور نہ اس کو دکھ دیا غرض پہلے نبیوں نے اپنے اپنے حالات کے مطابق قربانیاں دیں قربانیاں اور ذمہ داریاں ہر دو کم تھیں۔انہوں نے ساری دنیا سے گالیاں نہیں کھا ئیں اس لئے ان کا انعام بھی محدود تھا۔لیکن ہمارے سید و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم كافة لِلنَّاسِ یعنی تمام بنی نوع انسان کی طرف مبعوث ہوئے۔ساری دنیا سے آپ کا تعلق ٹھہرا ساری دنیا نے آپ سے دشمنیاں کیں مگر آپ نے ساری دنیا سے پیار کیا ہماری دنیا کے لئے آپ نے دعائیں کیں۔نہ صرف اپنے زمانہ کی دنیا بلکہ قیامت تک ہر نسل کے لئے دعائیں کیں۔قرآن کریم کے ذریعہ ان کے مسائل حل کرنے کے سامان مہیا فرمائے۔گویا یہ ایک بہت بھاری ذمہ داری تھی اور بہت بڑا ابو جھ تھا جو آپ پر ڈالا گیا۔چنانچہ جس شان کی ذمہ داریاں تھیں اسی شان