خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 189 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 189

خطبات ناصر جلد پنجم ١٨٩ خطبہ جمعہ ۲۵ رمئی ۱۹۷۳ء سے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بھی آپ کے وجود میں ظاہر ہوئیں۔آپ کے طفیل قرآن عظیم کے شروع ہی میں سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اُمت محمدیہ اور اس کے افراد کو یہ بشارت دی کہ تم یہ دعا کیا کرو کہ اے خدا پہلوں کے انعامات متفرقہ مجموعی طور پر ہمیں عطا فرما۔کیونکہ پہلوں کی متفرق ذمہ داریاں اب مجموعی طور پر ہم پر ڈال دی گئی ہیں۔اسی لئے اب استعداد اور اس کی کامل نشو و نما کی رُو سے اُمت محمدیہ میں بعض ایسے افراد ہوں گے جو اس قدر روحانی انعام حاصل کرنے والے ہوں گے جتنے پہلے کسی ایک نبی نے حاصل کئے تھے مگر کچھ بزرگ ایسے بھی ہوں گے جن کی استعداد اور مجموعی قربانیاں اللہ تعالیٰ کے حضور اتنی مقبول ہوں گی جتنی پہلے تین چار نبیوں کی ہوتی تھیں اس استعداد اور اخلاص کے مطابق اللہ تعالیٰ ان کو تین چار نبیوں کے انعامات دے دے گا اور اگر اُمت محمدیہ میں کوئی ایسا برگزیدہ وجود پیدا ہو جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل کامل ہونے کے لحاظ سے تمام انبیاء کی صفات کا عکس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اپنے وجود میں منعکس کرتا اور وہی شکل اختیار کرتا ہے تو وہ بھی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ان تمام انعامات متفرقہ جو پہلے نبیوں کو اور پہلے صدیقوں کو اور پہلے شہداء کو اور پہلے صالحین کو دیئے گئے تھے ان کا مستحق ٹھہرتا ہے۔پس یہ ایک بہت بڑی بشارت ہے جو دی گئی ہے اور ایک بڑی ہی حسین امید ہے جو امت محمدیہ اور اس کے افراد کے دلوں میں پیدا کی گئی ہے۔اس بشارت کی رو سے ان دروازوں کے پیش نظر جو خدا تعالیٰ کے انعامات کے حصول کے لئے اُمت محمدیہ پر کھولے گئے ہیں ہمیں اپنی کوششوں میں وسعت اور شدت پیدا کرنی چاہیے۔تا کہ اللہ تعالیٰ حسب وعدہ ہمیں پہلوں سے کہیں زیادہ انعامات کا مستحق بنائے۔ہمارے دل خدا تعالی کی حمد سے معمور اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور صلوات کے جذبات سے پر ہو جائیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔谢谢谢 از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )