خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 184 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 184

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۸۴ خطبه جمعه ۱۸ مئی ۱۹۷۳ء پر تم نے خدا کی پناہ ڈھونڈنی ہے اپنے علم پر بھروسہ نہیں کرنا تم نے اپنی جرات پر تکیہ نہیں کرنا کیونکہ تم خود اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں ہو۔علم وفضل اور جرات و بہادری خدا عطا فرماتا ہے۔انسان صفات کو اپنے ماں باپ سے لے کر تو نہیں آتا یا اپنے خاندان اور قبیلے سے تو ان چیزوں کو حاصل نہیں کرتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی دین اور عطا ہے اس لئے فرمایا کہ ایسے موقع پر اللہ کے سوا کسی اور چیز پر بھروسہ نہ کرنا خدا کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا۔صفات باری کے علم و عرفان میں ترقی کرتے رہنا اور تسبیح و تحمید میں مشغول رہنا یہ اعلان کرتے ہوئے کہ صرف خدا تعالیٰ ہی ہر کمزوری سے پاک اور ہر خوبی سے متصف ہے۔گویا خدا کا کوئی بندہ کبھی یہ نہیں کہتا کہ چونکہ مجھ میں کوئی کمزوری نہیں اس لئے دشمن خدا مجھ پر غالب نہیں آ سکتا۔وہ تو یہی کہتا ہے کہ میں تو کلی طور پر کمزور ہی کمزور اور لاشے محض ہوں لیکن میں نے جس ہستی کا دامن پکڑا ہے وہ ہر کمزوری اور نقص سے پاک ہے اس کی یہ بنیادی صفت ہے کہ وہ ہر کمزوری اور عیب سے مبرا ہے میں اس قدوس ہستی کا دامن پکڑتا ہوں اور اس کی صفات کا واسطہ دے کر اس کے سامنے جھکتا اور کہتا ہوں کہ اے میرے قادر و توانا خدا! ہم میں کوئی طاقت نہیں۔نہ کوئی علم ہے نہ کوئی جتھہ ہے اور نہ کوئی جرات ہے۔کچھ بھی نہیں۔جو کچھ ہے وہ تجھ سے پایا ہے اور اس وقت تک رکھ سکتے ہیں جب تک تو چاہے اور فیصلہ فرمائے کہ ہم ان صفات سے متصف رہیں۔ان صفات سے جنہیں تو پسند کرتا اور جن سے تو محبت کرتا ہے۔غرض نذیر کی صفت کے مقابلہ پر تسبیح وتحمید کی ذمہ داری کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس بات سے ڈرتے رہنا ہے کہ شیطان فخر کے جذبات نہ پیدا کر دے دوسرے یہ کہ دشمن کے مقابلہ میں اپنے زور بازو پر تکیہ نہیں کرنا اور ہمیشہ یہی سمجھتے رہنا ہے کہ ہم خدا کی مدد اور اس کے رحم کے بغیر اس کی محبت اور پیار کے بغیر تقرب الہی کے مقام کو نہ اس دنیوی زندگی میں قائم رکھ سکتے ہیں اور نہ اس کے نتیجہ میں اُخروی زندگی میں فلاح پاسکتے ہیں۔اس لئے ہر دو معنی میں اس کی طرف جھکنا اور اس کی تسبیح میں مشغول ہو جانا ضروری ہے۔خدا کو ہر عیب اور کمزوری سے پاک اور مقدس ٹھہراتے ہوئے اور سب پاکیزگی اور تقدس اور تزکیہ کا سرچشمہ سمجھتے ہوئے تسبیح کرنی ہے تا کہ