خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 169 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 169

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۶۹ خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۷۳ء ساتھ اپنے پر نازل ہوتا دیکھیں گے ہر سال زیادہ نمایاں ہوکر اور زیادہ پختہ بن کر۔غیر کے لئے یہ دلیل ہو گی کہ ساری دنیا کی مخالفانہ طاقتیں جماعت احمدیہ کی قوت کو کمزور کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں بلکہ جماعت احمدیہ کی قوت، ان کا اخلاص ، ان کی جاں نثاری اور ان کی قربانیاں پہلے سے زیادہ محض اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اور ان قربانیوں کے نتائج بھی پہلی قربانیوں کے نتائج کے مقابلہ میں نسبتاً زیادہ ظاہر ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو مختلف پیرایہ میں بیان فرمایا ہے جو آیت اس وقت میں نے پڑھی ہے اس میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں۔ایک یہ کہ جو مال بھی تم خدا کی راہ میں خرچ کرو گے وہ مال خیر ہونا چاہیے خیر کے لفظ میں دونوں معنی پائے جاتے ہیں مال بھی ہو اور مال حلال بھی ہو ) تو اس کا فائدہ تمہارے نفسوں کو ملے گا گویا ہر قربانی دینے والا مخلص مومن اپنے نفس کی بھلائی کی خاطر خدا کی راہ میں قربانی دیتا ہے۔دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ گو دنیا بھی قربانی دیتی ہے لیکن وہ انتہائی قربانی دینے کے بعد ایک عارضی نتیجہ چاہتی ہے کبھی اس میں کامیاب ہوتی ہے اور کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔تاہم ان کا جو مقصود و مطلوب ہے وہ ایک بے حیثیت اور عارضی چیز ہے مثلاً لوگ مال کی قربانی دیتے ہیں یا جنگوں میں جان کی قربانیاں دے دیتے ہیں یا اوقات کی قربانیاں دے رہے ہیں مگر اس کے نتیجہ میں ان کو دنیا تومل جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا حاصل نہیں ہوتی۔عیسائی قو میں مالی لحاظ سے ہم سے بہت زیادہ قربانیاں دینے والی ہیں ( مختلف ملکوں میں آباد ہونے کی وجہ سے میں ان کو قو میں کہہ رہا ہوں) اسی طرح دہر یہ ممالک مالی لحاظ سے ہم سے بہت زیادہ قربانیاں دینے والے ہیں۔روس قربانی دیتا ہے روسی حکومت اہلِ روس سے مالی قربانی لیتی ہے تاکہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں میں زیادتی کر سکے۔غرض روس اور دوسرے اشترا کی ممالک دنیا کی اس غرض کے لئے اور دنیا کی اُس غرض کے لئے لوگوں سے مالی قربانی لیتے ہیں۔وہ ہم سے زیادہ قربانیاں دیتے ہیں لیکن ان کی قربانیوں کے نتیجہ میں ان کو خیر نہیں ملتی یعنی جو بہترین جزا عقلاً مل سکتی ہے وہ عملاً ان کو نہیں ملتی جو دنیا کی خاطر عارضی زندگیوں کے لئے قربانیاں دیتے ہیں ان کو دنیوی انعام مل جاتا ہے کبھی وہ بھی نہیں ملتا۔تاہم ان کے اپنے اندازے ہیں ان