خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 146
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۴۶ خطبہ جمعہ ۴ رمئی ۱۹۷۳ء کہ کچھ سرکٹیں گے، کچھ لوگ زخمی ہوں گے۔کون ہوں گے اور کیا ہوگا ، یہ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن جب اس قسم کا فساد ہوگا تو دنیا میں ہماری ناک کٹے گی ، ہر جگہ پاکستان کی بدنامی ہوگی۔اب میں وہ خبر بھی جو یکم مئی کو ” مشرق نے شائع کی ہے اس خطبہ میں ریکارڈ کروا دیتا ہوں۔مشرق‘ نے ۳۰ ا پریل کو یہ خبر شائع نہیں کی۔اُس نے شرافت کا ثبوت دیا ہے اور صحیح خبر شائع کر دی ہے۔غرض اس اخبار نے ” آزاد کشمیر اسمبلی نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرار داد منظور کر لی“ کے عنوان سے لکھا کہ آزاد کشمیر اسمبلی نے ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں حکومت کشمیر سے یہ سفارش کی گئی ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ریاست میں جو قادیانی رہائش پذیر ہیں اُن کی باقاعدہ رجسٹریشن کی جائے اور انہیں اقلیت قرار دینے کے بعد (ہم پر گویا بڑی مہربانی کر رہے ہیں) ان کی تعداد کے مطابق مختلف شعبوں میں اُن کی نمائندگی کا یقین کرایا جائے۔قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں قادیانیت کی تبلیغ ممنوع ہو گی۔یہ قرارداد اسمبلی کے رکن میجر محمد ایوب نے پیش کی تھی۔قرارداد کی ایک شق ایوان نے ہفتہ کے روز بحث کے بعد ایک ترمیم کے ذریعہ خارج کر دی جس میں کہا گیا تھا کہ ریاست میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا جائے“۔میجر ایوب نے قرارداد پیش کرتے ہوئے آئین پاکستان میں مندرج صدر مملکت اور وزیر اعظم کا حلف نامہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ آئین میں ان عہد یداروں کے لئے مسلمان ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے اور اس کے مطابق یہ حلف نامہ تجویز کیا گیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ حلف اُٹھانے والا یہ اقرار کرتا ہے کہ اس کا ایمان ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں اور اُن کے بعد کوئی نبی نہیں۔میرا اور آپ سب کا بھی یہی ایمان ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے نبی اور خاتم الا بنیاء ہیں ہم یہی مانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔پچھلے دنوں میں نے ایک خطبہ جمعہ میں بتایا تھا کہ مقام محمدیت عرشِ ربّ کریم ہے اور