خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 142
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۴۲ خطبہ جمعہ ۴ رمئی ۱۹۷۳ء پڑھ کر سناتا ہوں۔یہ خبر امروز میں ” آزاد کشمیر میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا“ کے عنوان کے تحت ان الفاظ میں تھی :۔میر پور ۱/۲۹ پریل۔آزاد کشمیر اسمبلی نے آج ایک قرار داد متفقہ طور پر منظور کی ہے جس کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے اور آزاد کشمیر میں احمدی عقائد کی تبلیغ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔“ قریباً یہی خبر دوسرے اخبارات میں بھی شائع ہوئی ہے، جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے یہ خبر فی ذاتہ جھوٹی ہے۔اس شکل میں کوئی قرارداد پاس نہیں ہوئی جس شکل میں پاس ہوئی ہے اُس کی طرف میں ابھی آؤں گا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اخبارات جن کا وزارت اطلاعات و نشریات سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ان اخباروں نے اس جھوٹی خبر کونمایاں طور پر کیوں شائع کیا؟ اس کی ذمہ واری یا تو کسی افسر پر عائد ہوتی ہے جو اس وزارت سے تعلق رکھتا ہے اور یا انہی اخباروں پر ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جو بھی جھوٹ بول دیں اُن سے جواب طلبی کرنے والا کوئی نہیں۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ انسان جب خود کو انسان کے محاسبہ سے محفوظ پاتا ہے تو اگر خدا چاہے تو آسمانوں سے ایسے لوگوں کا اور ایسے گروہوں کا محاسبہ کیا جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے یہ خبر اس شکل میں درست نہیں ہے ، نہ کوئی ایسا بل منظور ہوا ہے کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جاتا ہے نہ کوئی ایسا بل منظور ہوا ہے کہ احمدیوں کی تبلیغ پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ایک اور خبر تھی وہ امروز میں تو نہیں غالباً ”نوائے وقت“ اور ”مغربی پاکستان میں شائع ہوئی ہے کہ احمدیوں کی غیر مسلم اقلیت کے طور پر رجسٹریشن کروائی جائے ، جس دن یہ خبر شائع ہوئی ہے اُس دن چونکہ کسی کو حالات کا پتہ نہیں تھا کہ آیا یہ خبر صحیح بھی ہے یا نہیں ؟ اس لئے جہاں بھی یہ خبر پہنچی وہاں اس کا شدید رد عمل ہوا۔جماعتوں نے اس کے خلاف بڑے غم وغصہ کا اظہار کیا۔اس قسم کی خرافات کا ہم عام طور پر نوٹس نہیں لیا کرتے اور ان کو قابل اعتنا نہیں سمجھا کرتے۔اس لیے اگر یہ بات ڈھکی چھپی رہتی تو اس کے متعلق ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن چونکہ یہ خبر اخبارات کے ذریعہ کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے پشاور تک پہنچ چکی ہے اور اب